مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 9 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,269 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,643 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,269 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,643
قومی

جماعت اسلامی کا شبر زیدی کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

📅 جمعرات، 13 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
جماعت اسلامی کا شبر زیدی کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ جماعت اسلامی پاکستان نے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کی جانب سے پارٹی پر لگائے گئے بے بنیاد، من گھڑت اور تحقیر آمیز الزامات کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں ایک ارب روپے کے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستانی قوم 79 واں جشن آزادی تجدید عہد کے ساتھ منائے گی کے پرامن ماحول میں سیاسی درجہ حرارت کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔ جماعت اسلامی کے قانونی وکیل کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹس میں شبر زیدی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام الزامات اور بیانات بلا مشروط واپس لیں اور میڈیا پر علانیہ معافی مانگیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

قانونی نوٹس کی تفصیلات اور الزامات

قانونی نوٹس کے متن کے مطابق، شبر زیدی نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی شو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جماعت اسلامی اور اس کی قیادت کے خلاف ایسے نامناسب اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جس سے تنظیم کی ساکھ، قومی خدمات اور دیرینہ شہرت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی ایک آئینی، جمہوری اور دیانت دار سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے اور اس پر مالی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات لگانا بالکل نا قابلِ برداشت ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا ہے تاکہ ملکی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، مگر اس دوران سیاسی محاذ آرائی میں بھی تیزی آئی ہے۔ شبر زیدی کے ان بیانات سے لاکھوں کارکنان اور پارٹی سے وابستہ عوام کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔

مرکزی ترجمان کا موقف

جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ شبر زیدی نے بغیر کسی ثبوت اور حقیقت کے جماعت اسلامی کے متعلق ہٹ دھرمی پر مبنی بات کی ہے۔ جماعت اسلامی کی پوری تاریخ مالی شفافیت اور عوامی خدمت سے عبارت ہے اور پارٹی کے تمام اثاثے اور مالی امور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر آڈٹ شدہ ہوتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ شبر زیدی جیسے عہدیداروں کی جانب سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دراصل سیاسی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے اور ایک صاف ستھری جماعت کا امیج خراب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ جیسا کہ تیز رفتار زندگی اور سکونِ قلب کی تلاش کے سفر میں بھی اصول پسندی کی ضرورت ہے، اسی طرح سیاسی میدان میں بھی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

14 دن کی حتمی مہلت

نوٹس میں شبر زیدی کو 14 دن کی حتمی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر آ کر جماعت اسلامی، اس کے نمائندوں اور کارکنوں سے اپنے الفاظ پر معافی مانگیں۔ اگر نوٹس کی مقررہ مدت کے اندر شبر زیدی کی جانب سے تحریری معافی اور بیانات کی واپسی کا عمل سامنے نہ آیا، تو جماعت اسلامی ان کے خلاف عدالت عالیہ میں ایک ارب روپے کے ہرجانے کا سول دعویٰ دائر کرے گی، جبکہ ان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔ سیاسی و قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے اس طرح کا سخت ردِعمل سیاسی میدان میں بغیر ثبوت کے الزامات تراشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تمام تر نظریں اس بات پر ہیں کہ سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی جماعت اسلامی کے اس قانونی نوٹس پر کیا ردِعمل دیتے ہیں اور کیا وہ اپنے الزامات کی سچائی کے لیے کوئی ثبوت پیش کرتے ہیں یا قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے معافی نامہ جاری کرتے ہیں۔

ٹیگز: #ایف بی آر #جماعت اسلامی #سیاست پاکستان #شبر زیدی #قانونی نوٹس
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں