کمشنر راولپنڈی کی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ کمشنر راولپنڈی اور ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) سلمان غنی نے شہر میں قائم غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو دھوکہ دہی اور غیر قانونی ہاؤسنگ پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کے نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔
13 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو شوکاز نوٹس
ترجمان آر ڈی اے کے مطابق غیر قانونی ڈویلپمنٹ، پلاٹوں کی غیر قانونی بکنگ اور سوشل میڈیا پر غیر مجاز تشہیر کرنے والی 13 ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژن منصوبوں کو فوری طور پر شوکاز نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان سکیموں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 روز کے اندر اپنی قانونی حیثیت کے حوالے سے وضاحت جمع کرائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ حالیہ دور میں وزیراعظم شہباز شریف کی قومی مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک منظوری کے بعد سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔
عوام کے لیے انتباہ
آر ڈی اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری کرنے سے ہر صورت گریز کریں۔ کسی بھی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل آر ڈی اے سے این او سی (NOC) اور قانونی حیثیت کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آر ڈی اے کا ماننا ہے کہ شفافیت کے بغیر کیے گئے کاروباری معاملات عوام کی جمع پونجی کے ضیاع کا باعث بن سکتے ہیں، جیسے کہ ماضی میں پی ٹی سی ایل گروپ کی مالی کارکردگی میں شاندار بہتری نمایاں رہی ہے، اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی قانونی ضوابط کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔
سوشل میڈیا تشہیر اور قانونی کارروائی
غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی گمراہ کن تشہیر کے تدارک کے لیے آر ڈی اے نے نیب، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور ایس این جی پی ایل کو مراسلے ارسال کر دیے ہیں۔ ڈی جی آر ڈی اے سلمان غنی نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں، بکنگ آفسز، کمرشل سرگرمیوں اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک شہر میں قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو جاتی۔ اس کے علاوہ لاہور ایئرپورٹ پر مسافروں کی سہولت کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت کے تناظر میں شہری ترقیاتی منصوبوں میں نظم و ضبط کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔
