حوثیوں کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں سے یمن میں جنگ کے خدشات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ یمن کے حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ایک بار پھر اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ برسوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد یمن دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات ایران، سعودی عرب اور پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
حوثی سرگرمیوں میں اضافہ اور خطے میں کشیدگی
نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اگرچہ یمن میں نسبتاً سکون رہا، تاہم حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے اپنی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی اب خود کو ایران کے علاقائی اتحادیوں کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور ان کی سرگرمیاں صرف غزہ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم عالمی بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اسی تناظر میں جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل منعقد ہوا جس میں علاقائی استحکام پر بات کی گئی۔
امن کی کوششوں کو درپیش چیلنجز
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب یا بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے مزید تیز کیے تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی دوبارہ فوجی کارروائی پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے یمن میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے یمن سے اپنی براہ راست فوجی مداخلت کم کرنے اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم حوثیوں کی حالیہ سرگرمیاں ان کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے پاس جدید ڈرونز، بیلسٹک میزائل اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیار موجود ہیں، جنہیں مغربی ممالک ایران کی معاونت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اگرچہ تہران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔
عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی پر اثرات
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیجی خطے میں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ جیسے کہ حکومت پاکستان نے 2030 تک طویل المدتی حج پالیسی متعارف کرا دی ہے، اسی طرح خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی پالیسیوں کو علاقائی صورتحال کے مطابق ڈھال رہے ہیں، جبکہ امریکی کانگریسی وفد کی اسحاق ڈار سے اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق بھی موجودہ بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
