موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ عالمی سطح پر کر رہے ہیں، مصدق ملک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور اس تبدیلی سے سب سے زیادہ وہ ممالک متاثر ہو رہے ہیں جو اس کے ذمہ دار بھی نہیں ہیں۔ حکومت پاکستان موسمیاتی انصاف کے لیے اپنا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کر رہی ہے اور ہم دنیا سے اپنا حق لے کر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے زرعی تحفظ پر توجہ کی ضرورت ہے، رانا تنویر جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے موقع پر وفاقی وزرا کے ہمراہ نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر تباہ کن اثرات
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل نہیں ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تین ممالک 57 فیصد جبکہ دس ممالک 70 فیصد گرین ہاؤس گیسیں پیدا کر رہے ہیں جن کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کے بے وقت پگھلنے اور سیلاب جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند سیلابوں میں 6 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، 20 ہزار زخمی ہوئے جبکہ چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے، جو یورپ کے بیشتر ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
حکومتی حکمتِ عملی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس کے تحت فوڈ سکیورٹی، فنانسنگ، پلاننگ اور پانی کے انتظام جیسے شعبوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں میں نمایاں بہتری: احسن اقبال کے عزم کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس اور سیٹلائٹس کی مدد سے مؤثر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
پانی کا انتظام اور صوبائی تعاون
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ شمالی علاقوں میں بارشوں اور میدانی علاقوں میں خشک سالی کے پیش نظر الگ الگ حکمتِ عملیاں تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مؤثر انتظام اور پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، وزیر خزانہ کے نقطہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے اور ٹیلی میٹری نظام کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی ذمہ داریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاق صوبوں کو ہر ممکن تکنیکی معاونت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ قدرتی آفات کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
