وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، احسن اقبال، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
آئل ریفائننگ پالیسی 2023 اور جدید تقاضے
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔ یورو-4 اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس حوالے سے یاد رہے کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ اجلاس، گندم درآمد کا فیصلہ اور دیگر حکومتی پالیسیاں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔
برآمدی سرمایہ کاری اور روڈ شوز
وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی ترویج کے لیے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سٹریٹجک ریزروز
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے پالیسی میں کی گئی ترامیم کا مقصد ماحول دوست یورو-5 کی مطابقت رکھنے والے پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا، فرنس آئل اور کم معیار کی پٹرولیم مصنوعات میں کمی لانا ہے۔ وزیراعظم نے ریفائننگ پالیسی میں ترمیم کے حوالے سے وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ واضح رہے کہ موجودہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال میں توانائی کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ دوسری جانب طاقتور حلقے مسلم لیگ ن کی حکومت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، گورنر سلیم حیدر جیسے بیانات بھی سیاسی منظرنامے میں زیر بحث رہتے ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے، جس کے لیے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مزید برآں، حکومت کے دیگر ترقیاتی اقدامات کے تحت محمد حنیف عباسی اور مریم اورنگزیب کی ریلوے منصوبوں پر ملاقات جیسے امور بھی تواتر سے جاری ہیں۔
