محمد حنیف عباسی اور مریم اورنگزیب کی ریلوے منصوبوں پر ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے وزارتِ ریلوے میں خصوصی ملاقات کی، جس میں مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال اور بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پنجاب حکومت اور پاکستان ریلوے کے اشتراک سے جاری مختلف منصوبوں اور دیگر ترقیاتی اقدامات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس کی طرز پر ریلوے کے امور میں شفافیت اور بروقت تکمیل پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب کے 8 سب اربن ریلوے روٹس پر پیش رفت کا خصوصی جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق 3 روٹس کی فزیبلٹی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ باقی منصوبوں کی فزیبلٹی بھی جلد مکمل کی جائے گی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے لیول کراسنگز کی اپ گریڈیشن کے لیے 9.7 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد منصوبوں پر جلد عملی کام کا آغاز ہوگا۔ غیر محفوظ لیول کراسنگز کو مرحلہ وار مینڈ کراسنگز میں تبدیل کیا جائے گا، جو قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
گرین ریلوے کوریڈور اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب گرین ریلوے کوریڈور منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت 40 کلومیٹر سے زائد ریلوے کوریڈور پر شجرکاری کے ذریعے سرسبز ماحول کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ‘ستھرا پنجاب پروگرام’ کے تحت ریلوے اسٹیشنز کی صفائی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے لیے صفائی کا عملہ دن رات خدمات انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں، لاہور سرکولیٹنگ ایریا کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس کے آئندہ ماہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔
تاریخی ورثے کا تحفظ
وزیراعلیٰ پنجاب ریلوے ہیریٹیج پریزرویشن انیشی ایٹو کے تحت پہلے مرحلے میں لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا ریلوے اسٹیشنز کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی کا کام کیا جائے گا۔ اس ضمن میں میڈیا انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کیلئے نئی پالیسی لائیں گے، عطاء اللہ تارڑ کے بیان کی طرح وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی صوبائی حکومت اتنے بڑے پیمانے پر ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے، جو وفاق اور صوبے کے مثالی اشتراک کی بہترین مثال ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کا مزید پانچ سال ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کا فیصلہ جیسے اقدامات سے وفاقی اداروں کو مستحکم کیا گیا تھا۔
