رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ اجلاس، گندم درآمد کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ویٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک میں گندم کی دستیابی، تقسیم کی حکمتِ عملی اور صوبوں کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سیکریٹری عامر علی احمد، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت، تمام صوبوں کے زراعت و خوراک کے سیکریٹریز، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان، وزارت کے سینئر حکام، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
گندم کی قلت اور درآمدی حکمت عملی کا جائزہ
اجلاس میں پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کی گندم کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی طلب پاسکو کے موجودہ دستیاب ذخائر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر، تمام صوبوں سے باہمی مشاورت اور ان کی بروقت ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ درآمد کی جانے والی یہ مقدار صوبوں کی جانب سے پیش کردہ ڈیٹا اور طلب کی بنیاد پر طے کی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور قومی غذائی تحفظ کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس بھی ملکی معاشی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
شفافیت اور صوبائی تعاون پر زور
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ درآمدی عمل کے دوران تمام صوبوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا، خصوصاً درآمد کی جانے والی گندم کے عالمی معیار اور تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی گندم صوبوں میں ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی تاکہ شفافیت، انصاف اور منصفانہ تقسیم کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے گندم کی مستحکم فراہمی، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور ملک بھر میں بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیرِاعظم کی ہدایات کے تناظر میں، یہ عمل وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی ملاقات کے بعد ہونے والی پیش رفت کا بھی تسلسل ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ تمام ضروری انتظامات کو مؤثر انداز میں اور صوبوں کے ساتھ مکمل رابطے کے ذریعے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے، تاکہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان اور دیگر معاشی عوامل کے تناظر میں عوام کو گندم کی دستیابی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
