ایران نے ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز مسترد کر دیں
تہران (نمائندہ خصوصی)۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ تہران نے ثالث ممالک کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز میں شامل مطالبات ایران کے قومی مفادات، خودمختاری اور بنیادی اصولوں سے متصادم تھے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاظم غریب آبادی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ منصوبے میں ایسے "بے جا مطالبات” شامل تھے جنہیں ایرانی وفد کسی بھی صورت تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔
سفارتی دباؤ اور ایرانی مؤقف
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے یا پیشکش کو قبول کرنے کا پابند نہیں جو دباؤ، دھمکی یا یکطرفہ شرائط پر مبنی ہو۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات پائیدار سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ایران نے مذاکراتی عمل کے دوران نہ تو ثالثوں سے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور نہ ہی اس پر اصرار کیا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کا غماز ہے کہ تہران اپنی قومی خودمختاری اور وقار کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے گریزاں ہے۔
غیر حقیقت پسندانہ مطالبات سے گریز کا مطالبہ
غریب آبادی نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کو یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایران کی بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیش کردہ تجاویز میں ایران کے جائز حقوق، سلامتی اور قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا تو انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس اور دیگر عالمی پیشرفتوں کے برعکس، ایران کا یہ سخت مؤقف اس کی خارجہ پالیسی کے مستقل مزاجی کا عکاس ہے۔
سفارت کاری کے لیے باہمی احترام ضروری
انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیوں، پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے کسی خود مختار ملک کو اپنی شرائط منوانے پر مجبور کرنا ممکن نہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تہران سفارتی حل کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم مذاکرات اسی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب باہمی احترام، برابری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے۔ اسی طرح جیسے فرانس کے فلسطینی ریاست حمایت پر اقوام متحدہ میں امریکی سفارت کاروں کا واک آؤٹ جیسے واقعات عالمی سیاست میں دراڑیں ڈالتے ہیں، ایران کا یہ فیصلہ بھی خطے کی سیاست میں گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ آخر میں، انہوں نے کہا کہ اب گیند دوسرے فریق کی کورٹ میں ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ اور قابل قبول تجاویز کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ تجزیہ کار اس پیشرفت کو اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ کویتی وزیر خارجہ آج دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جو علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
