معاشی ترقی کے لیے ترسیلات زر کے بجائے برآمدات کو ترجیح دی جائے، سیف الرحمان
معاشی ترقی کے لیے ترسیلات زر کے بجائے برآمدات کو ترجیح دی جائے، سیف الرحمان
*لاہور (3D میڈیا)* وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے برآمدات میں مسلسل اضافہ ناگزیر ہے، جبکہ پالیسی سازی میں ترسیلات زر کے مقابلے میں برآمدات کو زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔
یکم نومبر کو ’’پاکستان ایکسپورٹ انیشی ایٹو‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ برآمدات مقامی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں میں مسابقت، جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معیار، بہتر انتظامی طریقوں اور عالمی سپلائی چینز سے منسلک ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہیں، جس سے ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلات زر دونوں ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی لانے میں مدد دیتی ہیں، تاہم دونوں کے معاشی اثرات کی نوعیت مختلف ہے۔ برآمدات زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں براہ راست پیداوار اور روزگار کو فروغ دیتی ہیں، جبکہ برآمدی صنعتوں سے وابستہ افراد کے اخراجات بھی ملکی معیشت میں اضافی سرگرمیاں پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ترسیلات زر کے معاشی ترقی پر اثرات زیادہ تر بالواسطہ ہوتے ہیں۔
سیف الرحمان نے کہا کہ برآمدات میں مسلسل اضافے کو قومی ترجیح بنانے سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگار افراد کو روزگار کی تلاش میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر بیرون ملک جانے کی مجبوری بھی کم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو معاشی پالیسیوں میں برآمدات کے فروغ کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے اور اس مقصد کے لیے طویل المدتی اور دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی میں بہتر معاشی پالیسیاں اختیار کرکے مختلف بحرانوں سے بچاؤ کیا جاتا تو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں برآمدات کا تناسب کہیں زیادہ تیزی سے بڑھایا جا سکتا تھا۔ پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔
