فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کا مزید پانچ سال ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت کے ملازمین کو رہائشی سہولیات فراہم کرنے والے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) نے حکومت سے مزید پانچ سال کے لیے انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اتھارٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ذریعے وفاقی حکومت کو سفارشات ارسال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس کی روشنی میں یہ پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ وہ ایک عوامی فلاحی ادارہ ہے جو ‘نو پرافٹ، نو لاس’ کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد حاضر سروس اور ریٹائرڈ وفاقی ملازمین کو کم لاگت پر رہائش فراہم کرنا ہے، نہ کہ تجارتی بنیادوں پر منافع کمانا۔
ٹیکس چھوٹ کا دورانیہ اور قانونی پہلو
اتھارٹی حکام کے مطابق ادارے کی آمدن پلاٹوں کی اقساط، سروس چارجز، ٹرانسفر فیس اور دیگر وصولیوں سے حاصل ہوتی ہے، جو مکمل طور پر رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ترقی اور انتظامی اخراجات پر خرچ کی جاتی ہے۔ حکومت نے پہلے ایف جی ایچ اے کو 2020 سے 30 جون 2024 تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا تھا، تاہم اس مدت کے اختتام کے بعد اب اتھارٹی نے یکم جولائی 2024 سے 30 جون 2029 تک مزید پانچ سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ضروری قانونی ترامیم کی بھی سفارش کی جائے گی۔
لینڈ شیئرنگ اور سیکٹر کی نامزدگی
اجلاس میں ‘لینڈ ایکوزیشن (لینڈ شیئرنگ بیسز) ریگولیشنز 2026’ کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت ہر رہائشی منصوبے کی مالی اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق زمین مالکان کے ساتھ شراکت داری کی شرح الگ الگ مقرر کی جا سکے گی۔ یاد رہے کہ اس طرح کے پالیسی فیصلوں پر میڈیا انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کیلئے نئی پالیسی لائیں گے، عطاء اللہ تارڑ کے حالیہ بیانات کی طرح ہی شفافیت ضروری ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ نے اسلام آباد کے سیکٹر G-14 میں واقع روڈ نمبر 804 کو معروف روحانی شخصیت چن شاہ کاظمی کے نام سے منسوب کرنے کی بھی منظوری دی، جسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوایا جائے گا۔
منصوبوں میں تاخیر اور سینیٹ کمیٹی کا نوٹس
ایف جی ایچ اے کے کئی رہائشی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ وزارت ہاؤسنگ نے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے پہلے زیر تعمیر اسکیمیں مکمل کی جائیں، تاہم F-14 اور F-15 سیکٹرز میں ترقیاتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ان معاملات پر راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں حج 2027ء کے لیے قرعہ اندازی کی طرح سرکاری اداروں کو اپنی کارکردگی میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔
