مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 418,813 PKR Bitcoin $80,816 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 418,813 PKR Bitcoin $80,816
عالمی

اسرائیل غزہ اور لبنان سے فوج کے انخلا کا امریکی مطالبہ مسترد

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
اسرائیل غزہ اور لبنان سے فوج کے انخلا کا امریکی مطالبہ مسترد
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تل ابیب (نمائندہ خصوصی)۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات سے قبل اپنی سکیورٹی کابینہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی فوج کے بڑے پیمانے پر انخلا کے کسی بھی امریکی مطالبے کو مسترد کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

امریکہ کا انخلا کا مطالبہ

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے ایسے نکات پر مشتمل ایک فہرست اسرائیل کو بھیجی ہے جس میں غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے بعض علاقوں سے اسرائیلی افواج کے وسیع پیمانے پر انخلا کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کابینہ کے ارکان سے کہا کہ وہ اس مطالبے کی مخالفت کریں گے اور واشنگٹن کو واضح طور پر ‘نہیں’ کا جواب دیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ چاہتا ہے، غزہ جنگ، ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان کی صورت حال سمیت متعدد اہم علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایران کا جوہری پروگرام اور سکیورٹی

وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل اور مؤثر نگرانی برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسرائیل کے پاس ایسی کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ ایران فوری طور پر دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ماضی میں کیے گئے اقدامات نے پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کی طرح ایرانی جوہری پروگرام کو شدید متاثر کیا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تہران مستقبل میں اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے مسلسل نگرانی اور انٹیلی جنس تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کا مؤقف انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس حوالے سے امریکی صدر سے تفصیلی مشاورت کے منتظر ہیں، تاہم امریکہ کی آئندہ حکمت عملی اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔

تجزیہ اور علاقائی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل غزہ، جنوبی لبنان اور شام میں اپنی فوجی موجودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو بھی بدستور اپنے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ تصور کرتا ہے۔ ایسے میں واشنگٹن میں ہونے والی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات بلکہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کا وجود نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جواب کی طرح مشرق وسطیٰ کی آئندہ سکیورٹی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں