مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,665 PKR Bitcoin $80,833 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,665 PKR Bitcoin $80,833
قومی

پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کے اہم پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں مہنگائی، پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی، تعمیراتی اخراجات میں اضافے، سکیورٹی انتظامات، منصوبوں میں تاخیر اور ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (فیز ون)، تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ اور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ (K-IV) فیز ون سمیت کئی بڑے منصوبے لاگت میں غیر معمولی اضافے سے متاثر ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 479.69 ارب روپے سے بڑھ کر 1.122 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو تقریباً 134 فیصد اضافہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ڈیزائن میں تبدیلی، تعمیراتی اخراجات، سکیورٹی انتظامات، اراضی کے حصول اور منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ حکومت تین سال کے لیے چارٹر آف اکانومی متعارف کرائے، مدثر مسعود اور دیگر ماہرین کے مطابق یہ صورتحال معاشی عدم استحکام کی عکاس ہے۔ اسی طرح مہمند ڈیم کی لاگت 309.56 ارب روپے سے بڑھ کر 665.74 ارب روپے ہو گئی ہے، جو 115 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، ٹھیکیداروں کی لاگت میں اضافہ، سکیورٹی اخراجات اور تکنیکی تبدیلیاں اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی تفصیلات

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (فیز ون) کی لاگت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 486.09 ارب روپے سے بڑھ کر 1.738 کھرب روپے تک پہنچ گئی، یعنی 260 فیصد اضافہ۔ وزارت کے مطابق اس اضافے کا بڑا حصہ زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی، مہنگائی، سکیورٹی انتظامات، سماجی تحفظ کے اقدامات اور منصوبے کی تعمیر کے دوران مالیاتی اخراجات سے متعلق ہے۔ تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت بھی 82.36 ارب روپے سے بڑھ کر 316.41 ارب روپے ہو گئی، جو تقریباً 285 فیصد اضافہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تخمینے کئی سال پہلے تیار کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں تعمیراتی سامان، الیکٹرو مکینیکل آلات، ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب کراچی کے K-IV فیز ون واٹر سپلائی منصوبے کی لاگت میں بھی 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزارت کے مطابق درآمدی مشینری کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، سکیورٹی اخراجات اور منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر اس کی اہم وجوہات ہیں۔ پاسکو کی بندش کیلئے ای سی سی نے 4.2 ارب پیکج منظور کر لیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر اخراجات کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مالی شفافیت اور اصلاحات کی ضرورت

وزارت آبی وسائل کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، مسلسل مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی نے ملک کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے اخراجات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نظرثانی شدہ لاگت کے بغیر ان قومی اہمیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن نہیں۔ دریں اثنا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں واپڈا کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے بعد ان منصوبوں میں مالی شفافیت، نگرانی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کے دوران بھی حکومتی امور اور قومی معیشت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا جس میں ایسے منصوبوں کی نگرانی پر زور دیا گیا تھا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں