مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,621 PKR Bitcoin $80,004 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,621 PKR Bitcoin $80,004
قومی

بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کا وجود نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جواب

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کا وجود نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جواب
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی آئینی عدالت میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسوب مبینہ "بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ آٹھ صفحات پر مشتمل یہ جواب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جس میں درخواست کو بے بنیاد، قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

فورس نہیں، پرامن تحریک کا وجود ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ "بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” کے نام سے کبھی کوئی تنظیم یا فورس قائم نہیں کی گئی۔ جواب میں کہا گیا کہ اصل اقدام "بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک” ہے، جو ایک پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ عوامی تحریک ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا گاڑیوں کی جدید نمبر پلیٹس متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے انتظامی اقدامات کی طرح یہ تحریک بھی قانونی حدود میں رہ کر کام کر رہی ہے اور اس میں کسی قسم کا مسلح ڈھانچہ، نجی ملیشیا یا عسکری تنظیم موجود نہیں، اس لیے درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔

آئینی و قانونی موقف

وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی درخواست سیاسی مقاصد کے حصول اور غلط بیانی پر مبنی ہے، جس میں ایسے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار اپنے الزامات کے حق میں بنیادی حقوق کی کسی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق رہائی امن تحریک کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 16، آرٹیکل 17 اور آرٹیکل 19 کے تحت اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی کا مکمل تحفظ حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 256، جو نجی مسلح تنظیموں سے متعلق ہے، اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ رہائی امن تحریک کسی بھی لحاظ سے مسلح تنظیم نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کا اطلاق بھی اس تحریک پر نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن اور غیر عسکری نوعیت کی ہیں۔

تحریک کے خلاف الزامات مسترد

جواب میں امن و امان کو لاحق خطرات سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ رہائی امن تحریک کا ماضی میں سرگرم کسی بھی مسلح تنظیم سے موازنہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔

انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین اور قانون کے مطابق ایک جائز اور قانونی عوامی تحریک قرار دیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت کے دیگر اہم فیصلوں کے اثرات بھی زیر بحث ہیں، جس طرح پاسکو کی بندش کیلئے ای سی سی نے 4.2 ارب پیکج منظور کر لیا۔ واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کر رکھا تھا، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 29 جولائی کو مقرر کی گئی ہے، جہاں عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی کرے گی۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں