بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر خواجہ آصف کا سخت ردعمل
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ وزیرِ دفاع نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بھارت کی جانب سے دھونس اور دھمکی پر مبنی بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی مسلسل کوششیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں۔
بین الاقوامی تنازع اور پاکستان کا موقف
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ ایسے بیانات سیاسی بیان بازی اور جبر پر مبنی انداز کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بیانات نہ تو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا: قیصر شیخ جیسے معاملات میں کسی قسم کی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی حیثیت
وزیرِ دفاع نے اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کردہ مرضی کے مطابق ہونا باقی ہے۔
بھارت کا دہرا معیار
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے دستاویزی ریکارڈ کی موجودگی میں، پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی کوششیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار اور عدم استحکام کا ذمہ دار ہے، جس نے خطے کو اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا یرغمال بنا رکھا ہے۔
خطے میں امن اور سلامتی
وزیرِ دفاع نے خبردار کیا کہ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی انتہائی تشویشناک ہے جو خطے میں بین الریاستی تصادم کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کا عزم حتمی ہے اور اس کا امتحان ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کی بیان بازی داخلی افراتفری اور مودی کے آمریت پسندانہ و تقسیم کار طرزِ حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی سعودی وزیر دفاع کے ترک اور جنوبی افریقی ہم منصبوں سے رابطے جیسے معاملات میں پاکستان نے عالمی امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح، خطے میں معاشی استحکام کے حوالے سے اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پرویز اقبال لوہسر کا موقف بھی اہم ہے۔
