بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا: قیصر شیخ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے واضح کیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا کوئی قانونی جواز رکھتا ہے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہوگا۔ اتوار کو اسلام آباد میں ‘ایمپاک اسٹریٹیجیز’ کے زیر اہتمام ‘پانی، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری: پاکستان کے سندھ طاس کا مستقبل کا تحفظ’ کے عنوان سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پانی کے معاملے پر جاری کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
آبی بحران اور قومی پالیسی کی ضرورت
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کو قلیل مدتی ہنگامی اقدامات سے آگے بڑھتے ہوئے پانی کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور پائیدار قومی پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور شدت اختیار کرتے آبی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق مون سون کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے ملک کے موجودہ آبی انتظامی نظام کی کئی بنیادی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور چیلنجز
تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی بارشیں، بالائی علاقوں سے آنے والے دریائی بہاؤ، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، فرسودہ آبپاشی نظام، زیر زمین پانی کے کمزور انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی محدود تیاری نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے مقابلے میں ملک کی حساسیت میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ مزید برآں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، آبادی میں تیزی سے اضافے اور دریائے سندھ طاس پر بڑھتے دباؤ نے پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو مون سون 2026: این ڈی ایم اے نے ہنگامی تیاریوں کا جائزہ لیا کے طرز پر مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
سفارتی و تکنیکی سفارشات
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان داخلی سطح پر آبی وسائل کے بہتر انتظام کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر فعال ‘آبی سفارت کاری’ کو فروغ دے۔ رپورٹ میں پانچ اہم پالیسی ترجیحات شامل ہیں جن میں 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد، پانی ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، چین کے ساتھ ہائیڈرولوجیکل تعاون، افغانستان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات، اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان اپنی معاشی اور قومی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، جس طرح ایران امریکا مفاہمت میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے، وانگ ای نے تسلیم کیا ہے، اسی طرح آبی سفارت کاری میں بھی فعال کردار ناگزیر ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
اس موقع پر ‘ایمپاک اسٹریٹیجیز’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد یونس نے کہا کہ پانی کا تحفظ اب پاکستان کی معاشی خود مختاری، غذائی تحفظ اور قومی سلامتی کا بنیادی جزو بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے اور جدید انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ایسی ترقیاتی حکمت عملیوں کے لیے لاہور چیمبر اور سائنرجیا گلوبل کے درمیان کاروباری ترقی کا معاہدہ جیسے اقدامات ملکی معیشت کو تقویت دینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
