یورپی یونین کی پابندیوں کے ردعمل میں چین کا بڑا اقدام
بیجنگ (نمائندہ خصوصی)۔ چین نے یورپی یونین کی جانب سے روس سے متعلق نئی پابندیوں کے جواب میں ایک اہم اور سخت جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 14 یورپی کمپنیوں اور اداروں کو اپنی ایکسپورٹ کنٹرول فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس اقدام کے بعد اب چینی کمپنیوں کو ان مخصوص اداروں کو دوہری استعمال (Dual-use) کی حامل مصنوعات، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر حساس سامان برآمد کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جس کا بنیادی مقصد قومی سلامتی، قومی مفادات اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ وزارت نے وضاحت کی ہے کہ دوہری استعمال کی مصنوعات سے مراد وہ ٹیکنالوجی یا آلات ہیں جو بیک وقت شہری اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ حکومتی حکم نامے کے تحت نہ صرف چین کے اندر موجود برآمد کنندگان بلکہ بیرون ملک سرگرم ادارے بھی اب ان 14 یورپی کمپنیوں کو چین سے حاصل کردہ دوہری استعمال کی مصنوعات فراہم نہیں کر سکیں گے، سوائے ان غیر معمولی حالات کے جہاں خصوصی حکومتی اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہو۔
یورپی یونین کی پابندیوں کا پس منظر
یہ جوابی کارروائی یورپی یونین کے روس کے خلاف اکیسویں پابندیوں کے پیکج کے اعلان کے بعد عمل میں آئی ہے۔ یورپی یونین نے حال ہی میں 51 اداروں کو ایکسپورٹ کنٹرول فہرست میں شامل کیا تھا، جن میں چین اور ہانگ کانگ کی 14 کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ یہ ادارے روس کی دفاعی صنعت کو حساس ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔ چین نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو ‘غیر منصفانہ’ اور ‘اشتعال انگیز’ قرار دیا ہے، جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ خرم شہزاد کی ٹیکس اصلاحات اور نئے ٹیکس ماڈل پر بریفنگ کے حوالے سے معاشی ماہرین محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، اسی طرح عالمی تجارت پر ان فیصلوں کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔
کن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں؟
پابندی کا سامنا کرنے والی کمپنیوں میں دفاعی، انجینئرنگ اور صنعتی شعبے کے بڑے نام شامل ہیں۔ ان میں جرمنی کی معروف دفاعی کمپنی رائن میٹل اے جی (Rheinmetall AG)، اٹلی کی لافرٹ ایس پی اے (Lafert S.p.A.)، نیدرلینڈز کی رائل آئی ایچ سی (Royal IHC)، اور جمہوریہ چیک کی ٹاٹرا ٹرکس (Tatra Trucks) شامل ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایف بی آر اصلاحات، کیش لیس معیشت پر تیزی سے کام جاری، محمد اورنگزیب کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معاشی نظام ڈیجیٹل اور شفافیت پر مبنی اصلاحات کی طرف گامزن ہے، تاہم سیاسی کشیدگی تجارت کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے جوابی پابندیوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو یورپ اور ایشیا کے درمیان موجود باہمی اقتصادی تعاون شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ اس تجارتی کشیدگی کے اثرات عالمی سپلائی چین اور دفاعی صنعت کی منڈیوں پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ خبروں کے اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ جیسے سفارتی رابطے اہمیت اختیار کر گئے ہیں تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی کو کم کیا جا سکے۔
