علی پرویز ملک کی عالمی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کے روز بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے اعلیٰ سطحی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جس میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ان ملاقاتوں کا مقصد ملک میں توانائی کی طلب کو پورا کرنے اور معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔
امریکی توانائی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات
پہلی نشست میں وفاقی وزیر نے امریکی توانائی کمپنی مورگن ہیوز انرجی (Morgan Hughes Energy) کے صدر گریگوری بلوم اور تیجارا کیپیٹل (Tejara Capital) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد ولید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے امور زیر بحث آئے۔ وفد کے سربراہ گریگوری بلوم نے بلوچستان کے علاقے کو اہم معدنیات کی ترقی کے لیے انتہائی زرخیز اور موزوں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مورگن ہیوز انرجی اور تیجارا کیپیٹل مشترکہ طور پر پاکستان میں معدنی منصوبوں پر کام کرنے کے شدید خواہاں ہیں۔ واضح رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے تناظر میں مقامی پیداوار میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، جس پر وزیر نے زور دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں کمپنیاں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے بالخصوص موجودہ فیلڈز کی کارکردگی بہتر بنا کر پیداوار میں اضافے کے مواقع کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مقامی توانائی کی پیداوار بڑھانے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ویٹول ایشیا کے ساتھ سٹریٹجک تعاون
ایک علیحدہ ملاقات میں وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا (Vitol Asia) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیئرن گیلاگھر اور ان کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر میں جاری تعاون پر گفتگو کی۔ وزیر نے گوادر میں ویٹول کی جانب سے بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر کمپنی کو مبارکباد پیش کی۔ اس دوران ہائی سلفر فیول آئل (HSFO) کو ویری لو سلفر فیول آئل (VLSFO) میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس پر وزیر نے حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت سے خطے میں اقتصادی روابط بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں نئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت موجود مواقع کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان عالمی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ مستقبل میں توانائی کے بحران سے بچا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت توانائی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سٹریٹجک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
