سید مصطفیٰ کمال کا ذہنی صحت سہولیات کو بہتر بنانے کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ذہنی صحت کی خدمات کو مؤثر، قابلِ رسائی اور شواہد پر مبنی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یاد رہے کہ حکومت ملک بھر میں وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان کی روشنی میں شعبہ صحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔
ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنانا
اجلاس میں گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے بانی ڈائریکٹر، ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی نے شرکت کی اور پاکستان میں ذہنی صحت کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیمی نظام میں مؤثر انداز سے ضم کیا جائے تاکہ ذہنی بیماریوں کی بروقت تشخیص، فوری علاج اور عوامی سطح پر ذہنی صحت کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
قومی ڈیٹا ڈیش بورڈ اور پالیسی سازی
انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے تعاون سے قومی ذہنی صحت ڈیٹا ڈیش بورڈ قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور بہتر پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے۔ وزیرِ صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے ذہنی صحت سے متعلق لازمی سرٹیفکیشن اور ڈپلومہ پروگرام متعارف کرائے جائیں۔
ٹیلی میڈیسن اور ہسپتالوں میں خصوصی تربیت
مصطفیٰ کمال نے ہدایت دی کہ وزارتِ صحت کے تحت قائم تمام ٹیلی میڈیسن مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کو باقاعدہ شامل کیا جائے تاکہ ملک بھر میں عوام کو آسانی سے نفسیاتی معاونت اور مشاورت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے جوائنٹ سیکرٹری (ہسپتال) اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کو ذہنی صحت سے متعلق خصوصی تربیت دینے کے لیے جامع تجاویز تیار کریں اور اس مقصد کے لیے قانون اور قواعد میں ضروری ترامیم کی سفارشات بھی پیش کریں۔
عالمی دن کی تیاری اور عزم
وفاقی وزیرِ صحت نے ذہنی صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026 کی تیاریوں کو تیز کیا جائے اور عوامی آگاہی مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان میں شواہد پر مبنی، معیاری اور ہر فرد کی دسترس میں ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ حکومت کی جانب سے اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف کے بعد اب صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یورپی یونین نے نابینا افراد کیلئے انقلابی بایونک آنکھ کی منظوری دے دی ہے جو طبی شعبے میں ایک نئی پیشرفت ہے۔
