وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں یہ نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات و پالیسیوں کا ثمر ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی شعبے کے سٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے آئی ٹی شعبے میں تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ڈیجیٹل پاکستان اور مستقبل کے اہداف
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل سپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو جائے گی، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کو وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان کے تسلسل میں آئی ٹی شعبے کے لیے ’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے۔
آئی ٹی شعبے میں ڈیجیٹل پیش رفت
بریفنگ کے مطابق پاکستان میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد تک پہنچ گیا۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ اور فائبر کنکشن فراہم کیے جائیں گے۔ حکومتی اقدامات کی بدولت گزشتہ مالی سال آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیے گئے، جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرامز جبکہ لیڈرشپ اور سافٹ سکلز کی 2700 ٹریننگز شامل ہیں۔ جلد ہی ’ویمن انوویشن اینڈ سٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب‘ کے منصوبے کا افتتاح کیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت اور سرکاری اداروں کا ڈیجیٹل سفر
اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کے مختلف اداروں میں مصنوعی ذہانت کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ جن اداروں میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے ان میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، سٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن شامل ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزافاطمہ خواجہ، وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
