وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ایگزم بنک کے صدر سے ملاقات
واشنگٹن ڈی سی (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے دوران امریکی ایگزم بنک (ایکسپورٹ – امپورٹ بنک آف یونائیٹڈ سٹیٹس) کے صدر اور چیئرمین جان جوانووک کے ساتھ ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔
اقتصادی و تجارتی تعاون کا فروغ
ملاقات کے دوران پاکستان اور امریکہ کے مابین اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک حکام سے ملاقات جیسے اقدامات کی طرح، پاکستان کی معاشی سفارتکاری کو تیز کیا جا رہا ہے۔ بات چیت کے دوران طویل مدتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے اور کاٹن، سویا بین اور ہائیڈروکاربن سمیت متعدد اہم زرعی اجناس میں دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
اسٹریٹیجک فریم ورک کی اہمیت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایگزم بنک کی جانب سے ترجیحی منصوبوں کے لیے ایک منظم فریم ورک تشکیل دینے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کثیر سالہ لین دین کے نظام اور امریکی فنانسنگ، جدید ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کے فروغ میں سہولت کاری کے اقدامات کو سراہا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم کا روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کے لیے بڑے فنڈ کا اعلان پاکستان کے مستقبل کے معاشی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، جس میں امریکی ٹیکنالوجی کا کردار کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قریب المدت ٹرانزیکشنز کو بروئے کار لایا جائے گا، جس کے لیے باقاعدہ فوکل پرسنز تعینات کیے جائیں گے۔ اسٹریٹیجک فریم ورک کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی تاکہ معاشی تعاون کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ مزید برآں، حکومت پاکستان کی جانب سے حکومت پاکستان کی جانب سے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا اجراء جیسے اقدامات عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس اسٹریٹیجک فریم ورک پر باقاعدہ دستخط کیے جائیں گے۔
