دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ بن گیا
دبئی/لندن (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی فضائی سفر کے ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے او اے جی (OAG) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایک بار پھر دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جبکہ لندن ہیتھرو ایئرپورٹ پہلی پوزیشن سے محروم ہو کر دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کی طرح دیگر عالمی معاشی اشاریے بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں جن کا اثر براہ راست مسافروں کی قوت خرید پر پڑتا ہے۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی برتری
رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 کے دوران دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کے لیے تقریباً 43 لاکھ 50 ہزار نشستیں دستیاب تھیں، جبکہ لندن ہیتھرو ایئرپورٹ پر یہ تعداد تقریباً 42 لاکھ 30 ہزار رہی، جس کے باعث دبئی نے عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ جس طرح ملک میں اسلام آباد میں نئے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کی منظوری ایک اہم پیشرفت ہے، اسی طرح دبئی کا ایئرپورٹ انفراسٹرکچر بھی عالمی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
فضائی سفر کا مرکز مشرقِ وسطیٰ منتقل
او اے جی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب، دبئی کے وسیع بین الاقوامی روٹ نیٹ ورک اور ٹرانزٹ حب کے طور پر اس کی مضبوط حیثیت نے اسے دوبارہ دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ استنبول ایئرپورٹ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بڑے ہوائی اڈے بھی عالمی فضائی ٹریفک میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔
مستقبل کے رجحانات
ماہرین کے مطابق عالمی فضائی سفر کا مرکز بتدریج یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جہاں جدید انفراسٹرکچر، بہتر فضائی رابطے اور بین الاقوامی ایئرلائنز کے وسیع نیٹ ورک کی بدولت دبئی جیسے مراکز عالمی ہوابازی میں اپنی برتری مزید مستحکم کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جیسے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی ہم آہنگی ضروری ہے، انعام حیدر نے واضح کیا، اسی طرح عالمی سطح پر ایوی ایشن کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی مربوط پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔
