پولیس اہلکاروں کے قاتلوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، آئی جی آزاد کشمیر
مظفر آباد (نمائندہ خصوصی)۔ انسپکٹر جنرل آزاد جموں و کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے پرتشدد اور ریاست مخالف عناصر کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مذاکرات کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کا بے دردی سے قتل کرنے، ان کے سینے چاک کرنے اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی اپنے بھائی کے قاتلوں اور سفاک درندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟
سیاسی حل صرف سیاست دان نکالتے ہیں
آئی جی پولیس نے بتایا کہ امن و امان کے قیام کے دوران ہمارے کئی جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ بیشتر اہلکار گولیوں کا شکار ہو کر شدید زخمی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کا کام سیاسی حل نکالنا نہیں ہے، سیاسی حل ہمیشہ سیاست دانوں کے ساتھ نکالا جاتا ہے اور اگر کسی کو شوق ہے تو وہ آ کر سیاست کرے، انہیں کسی نے نہیں روکا۔ آئی جی لیاقت علی ملک نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف فورسز کی گردنیں اتارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر فائرنگ جیسے واقعات کے بعد امن و امان کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، لاشیں گرائی جاتی ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں، جو کہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ظالموں سے ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی
لیاقت علی ملک نے پرتشدد عناصر کی غنڈہ گردی اور عوامی ہراسانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماں کے جنازے پر جانے والے بے قصور شہری کو اغوا کر کے اس کی ٹانگیں توڑ دی گئیں، ایسے ظالموں کا کوئی سیاسی حل نہیں ہو سکتا۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مابین تاریخی معاہدہ طے پا گیا تھا جس کی روشنی میں ایسے مسائل کے پرامن حل کی کوششیں ہوتی ہیں، تاہم یہاں صورتحال مختلف ہے۔ آئی جی لیاقت علی ملک نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں، پولیس کی گردنیں کاٹنے والوں اور معصوم شہریوں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی اور امن عامہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ برطانیہ میں پرامن احتجاج کے نام پر نفرت انگیزی کی اجازت نہیں دی جاتی، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
