آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر فائرنگ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آزاد کشمیر کے علاقے ٹائیں ڈلکوٹ میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ سابق مشیر سردار امتیاز شاہین اور ایک اور سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات اور تحقیقات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے اس وقت انتخابی قافلے کو ٹائیں ڈلکوٹ کے مقام پر نشانہ بنایا جب وہ ایک انتخابی مہم کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں کاروبار میں آسانی: وزیراعظم شہباز شریف کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔
سیاسی قیادت کا ردعمل
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے شہید سکیورٹی گارڈ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جمہوری سیاست میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسے واقعات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پارٹی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بحث ہوتی رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 24 دہشت گرد واصل جہنم جیسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کا پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کا خودکار نظام متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے اہم امور کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کو پرامن بنایا جا سکے۔
