مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,224 PKR Bitcoin $81,101 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,224 PKR Bitcoin $81,101
قومی

کاروبار میں آسانی: وزیراعظم شہباز شریف کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 4 منٹ
کاروبار میں آسانی: وزیراعظم شہباز شریف کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کو مزید تیز کیا جائے اور ان اقدامات کی افادیت جانچنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار میں آسانی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں، اداروں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے بھرپور استفادہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے کیے گئے تمام پالیسی اقدامات کے نفاذ پر ایک جامع رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے۔ وزیراعظم نے وزارت قانون و انصاف، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، سرمایہ کاری بورڈ، وزارت تجارت، وزارت صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے قانون سازی اور پالیسی سازی کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں لائق تحسین قرار دیا۔

اصلاحاتی عمل کی پیش رفت

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے مختلف ضوابط، کاغذی کارروائیوں اور منظوریوں کو کم کرنے کے سلسلے میں 558 اصلاحات پر کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 71 پالیسی اقدامات مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 272 اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔ یہ اصلاحات سات مراحل میں مختلف شعبوں میں نافذ کی جا رہی ہیں۔ بریفنگ کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری برادری کو مختلف ضابطوں اور انتظامی تقاضوں پر آنے والے اخراجات میں سالانہ 468.7 ارب روپے تک کی بچت متوقع ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں ای سم کی مفت منتقلی کے لیے نئی پالیسی تیار کی گئی ہے، اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری اور پیچیدہ کاغذی کارروائیوں اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات میں اضافہ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں بہتری اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر عملدرآمد اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کس طرح پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن بن گیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ملک میں جاری ان اقدامات سے توقع ہے کہ پی او ایف واہ میں دفاعی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر سیمینار جیسے مواقع کی طرح صنعتی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں