علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی: قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں مفت میٹرک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اپنے سماجی فلاحی مشن کے تحت قبائلی اضلاع، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کو میٹرک کی تعلیم مفت فراہم کررہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے دور افتادہ، پسماندہ اور نظرانداز علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ افغانستان میں غذائی بحران: 37 لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں کے تناظر میں خطے میں تعلیمی بہتری کے لیے ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
تعلیم تک رسائی کا مشن
وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا ہے کہ کوئی بچہ مالی مشکلات یا جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ یہی وژن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تعلیمی اور سماجی خدمات کا محور ہے جس کے تحت ملک کے دور دراز علاقوں کے طلبہ تک معیاری تعلیم کی سہولت پہنچائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی گزشتہ کئی برسوں سے ایسے علاقوں کے طلبہ کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے جہاں تعلیمی سہولیات محدود ہیں۔
مفت تعلیم کا دائرہ کار
قبائلی اضلاع، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے طلبہ کو میٹرک کی سطح پر مفت تعلیم فراہم کرنا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس سے ہزاروں طلبہ کو اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کی منظوری کے بعد اب تعلیمی نیٹ ورک کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سمسٹر خزاں 2026ء کے لیے میٹرک سے پی ایچ ڈی تک مختلف تعلیمی پروگراموں میں داخلے جاری ہیں۔ وائس چانسلر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ قبائلی اضلاع، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات اس خصوصی سہولت سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
قومی ترقی میں اوپن یونیورسٹی کا کردار
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی تعلیم کے فروغ، سماجی مساوات اور قومی ترقی کے لیے اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرتی رہے گی تاکہ ملک کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے اور پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکے۔ اس ضمن میں بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی آزاد کشمیر صورتحال پر مشاورت کے دوران بھی تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر زور دیا گیا تھا۔
