چین کا سیلاب زدگان کو بچانے کے لیے جدید ڈرونز کا استعمال

بیجنگ (نمائندہ خصوصی)۔ چین نے شدید سیلاب اور طوفانی بارشوں کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ریسکیو آپریشنز میں دیوہیکل ہیوی لفٹ ڈرونز کو میدان میں اتار دیا ہے۔ ان ڈرونز کی مدد سے سیلابی پانی میں گھرے اور مکانات کی چھتوں پر پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ حالیہ تکنیکی پیشرفت گوگل اور یونیورسٹی آف سان ڈیاگو کا پرانے اسمارٹ فونز سے ڈیٹا سینٹر کی طرز پر جدید دنیا میں ایک اہم قدم ہے۔
جدید ٹیکنالوجی سے ریسکیو آپریشن
چینی میڈیا کے مطابق جنوبی چین کے متاثرہ علاقوں میں شدید طوفانی صورتحال کے باعث روایتی امدادی کارروائیاں بے حد مشکل ہو گئی تھیں، جس پر ریسکیو اداروں نے بڑے ڈرونز کا استعمال کیا، جنہوں نے رسیوں اور خصوصی آلات کے ذریعے متاثرین تک فوری رسائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ ڈرونز کے ذریعے خوراک، پینے کا پانی اور دیگر ضروری طبی امدادی سامان بھی پھنسے ہوئے افراد تک پہنچایا گیا۔
مشکل مقامات تک رسائی
حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی نے ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں ممکن بنائیں جہاں کشتیوں یا دیگر زمینی ذرائع سے پہنچنا انتہائی دشوار اور جان لیوا ثابت ہو رہا تھا۔ چین نے اس کامیاب آپریشن کے ذریعے قدرتی آفات سے نمٹنے میں جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔ یہ پیشرفت مستقبل میں برج اسٹون کی 18 سالہ تحقیق کامیاب، ہوا کے بغیر ٹائر متعارف جیسی ایجادات کی طرح انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب سے نقصانات پر اظہارِ افسوس کے تناظر میں بھی قدرتی آفات کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔
