مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 433,761 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,265 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 433,761 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,265
قومی

افغان سرزمین سے دہشت گردی ناقابل قبول ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

📅 پیر، 12 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
افغان سرزمین سے دہشت گردی ناقابل قبول ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان اس کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دے چکا ہے۔ انہوں نے پیر کو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام دہشت گردی کے بدلتے منظرنامے پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور افغانستان سے پاکستان پر حملے بند ہونے چاہئیں۔

ایمرجنسی کا فیصلہ اور سیکیورٹی چیلنجز

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا حکومت کے لیے کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا تاہم امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، قومی معیشت کے استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر صوبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دھرنوں اور احتجاجی سیاست کے باعث ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ضروری ہے

نائب وزیراعظم نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کر دیے جیسے اقدامات اسی تسلسل کا حصہ ہیں تاکہ ملک میں امن قائم کیا جا سکے۔

افغانستان سے مطالبات

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے واحد مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگست 2025ء میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس بھی ہوا مگر افغان حکام اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے پاک فوج تعینات کی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مذہبی تشخص اور عالمی تعاون

انہوں نے کہا کہ اسلام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسحاق ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں قیام امن ہے اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور منفی پروپیگنڈا کرنے والے ہمیشہ کی طرح ناکام رہیں گے۔

ٹیگز: #اسحاق ڈار #افغانستان #پاکستان #خیبر پختونخوا #دہشت گردی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں