مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 432,804 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,696 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 432,804 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,696
قومی

پاکستان توانائی تحفظ کیلئے عالمی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار پر مرکوز

📅 پیر، 12 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
پاکستان توانائی تحفظ کیلئے عالمی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار پر مرکوز
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے توانائی کے ذرائع میں تنوع، مقامی پیداوار میں اضافے اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ پوری یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پیر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 17ویں انٹرنیشنل انرجی فورم (آئی ای ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر کیا۔ علی پرویز ملک نے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی دعوت پر اس اجلاس میں شرکت کی۔

سعودی عرب سے یکجہتی اور علاقائی صورتحال

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ اجلاس میں ان کی شرکت وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایات پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی گہری یکجہتی کا مظہر ہے۔ انہوں نے سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

پائیدار توانائی کے لیے سرمایہ کاری کا فروغ

وفاقی وزیر نے ’’پائیدار توانائی کے حل میں سرمایہ کاری اور تجارت: توانائی کو صاف، قابل رسائی اور سستا بنانا‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ اب سرمایہ کاری کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں توانائی کا تحفظ، مناسب قیمتیں اور پائیداری کا باہم مربوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاری صرف قابل تجدید توانائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہائیڈروکاربن، اہم معدنیات اور بجلی کے گرڈز سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انہوں نے 2026 کے غیر معمولی عالمی توانائی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے برادر ممالک کے تعاون سے توانائی کے بحران کا کامیابی سے سامنا کیا۔

توانائی کے مستقبل کے لیے اقدامات

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی توانائی تحفظ کے لیے سٹریٹجک ذخائر کی تیاری، ریفائنریز کی ترقی اور ہدف پر مبنی ریلیف نظام کے قیام پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل جیسے اقدامات کی طرح وفاقی سطح پر بھی توانائی شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور دیگر انتظامی امور کی طرح وفاقی سطح پر بھی بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فریم ورک کو بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔ اس کے علاوہ، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومتی عزم کے تناظر میں ملک بھر میں توانائی کے محفوظ ترسیلی نیٹ ورک کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

دوطرفہ ملاقاتیں اور تعاون کے امکانات

اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق سے ملاقات کی، جس میں ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل کی فراہمی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ لیبیائی وزیر نے کہا کہ وہ اپنی قومی آئل کمپنی کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے خام تیل کی مقدار مختص کی جائے۔ اس کے علاوہ، وفاقی وزیر نے قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی۔ ترکیہ کے وزیر توانائی الپرسلان بایراکتار سے ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں ترک پٹرولیم کارپوریشن کے جہاز کی حوالگی کی تقریب منعقد کی جائے گی۔

ٹیگز: #انٹرنیشنل انرجی فورم #پاکستان #توانائی کا تحفظ #سعودی عرب #علی پرویز ملک
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں