خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی، دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی: عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے لڑی جائے گی۔ پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام ”پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے بدلتے منظر نامے، ٹی ٹی پی، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی“ کے موضوع پر منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس مقام پر رہنے کی ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ دنیا کی کوئی دوسری قوم یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے دہشت گردی کی جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دینے کے ساتھ 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزاحمت، امن کے فروغ اور علاقائی سلامتی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عالمی امن کیلئے پاکستان کا کلیدی کردار
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں صرف اپنے ملک کو محفوظ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے عالمی امن کو بھی تقویت ملتی ہے۔ پاکستان دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ڈھال کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ان کوششوں کو آگے بڑھایا گیا جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا جس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے۔
علاقائی استحکام اور افغانستان
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں استحکام کا خواہاں رہا ہے۔ ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان سے نہ صرف پورے خطے میں امن کو فروغ ملے گا بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، بیرونی سرمایہ کاری اور علاقائی ریاستوں کے درمیان تعاون اور روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے مختلف خطوں میں مذاکراتی عمل میں شرکت کی اور افغان عبوری حکومت کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے کے عوام، بالخصوص افغانستان کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی چاہتا ہے، تاہم بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی تاہم اس فراخ دلی کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ بدقسمتی سے ہماری مہمان نوازی اور فراخدلی کا جواب کبھی اسی خیرسگالی سے نہیں دیا گیا۔
سرحد پار دہشت گردی اور پناہ گاہیں
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو صرف تشدد اور انتہاء پسندی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور آزادانہ جائزوں کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد دہشت گرد موجود ہیں جبکہ وہاں دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2021 میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد سے ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف حملوں اور دہشت گردی کی سہولت کاری کے لئے افغان سرزمین استعمال کرتی رہی ہے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایسے حملوں کا جواب دیا ہے کیونکہ دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرکے پاکستان پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
خیبر پختونخوا میں سیاسی و انتظامی پیش رفت
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ روز رونما ہونے والی تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی سے صوبے کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے اور اس کے مستقل خاتمے کے لیے مزید بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔ عطاء اللہ تارڑ نے اقوام متحدہ 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تقریباً دو ہزار ٹی ٹی پی دہشت گردوں اور ان کے خاندانوں کی سرحدی علاقوں سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہا تو خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، وزارتِ خارجہ اور عسکری قیادت سمیت تمام متعلقہ فریق دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے یکسو ہیں۔ پاکستان کا عزم ہے کہ نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کو دہشت گردی سے پاک کیا جائے۔
