سابق فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے: امیر مقام
سوات (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ امن و امان اور معاشی حالات بہتر ہونے تک سابق فاٹا اور پاٹا، خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن، میں عائد تمام وفاقی و صوبائی ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ سوات میں مسلم لیگ (ن) مالاکنڈ ڈویژن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے طویل دور میں علاقے کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔
اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مالاکنڈ ڈویژن پر عائد تمام ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور ٹیکسوں کے خلاف جاری پُرامن احتجاجی تحریکوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی اقدامات کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین کو مبارکباد دینے جیسے مثبت عمل بھی جاری ہیں، تاہم پسماندہ علاقوں کی معاشی بہتری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ٹیکس چھوٹ کا تسلسل ناگزیر ہے
امیر مقام نے یاد دلایا کہ 2016ء میں انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا مقدمہ اُس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سامنے پیش کیا تھا، جس کے بعد علاقے میں کسٹمز ایکٹ کا نفاذ واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے اس فیصلے پر نواز شریف کا شکریہ ادا کیا اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ٹیکس چھوٹ میں بار بار توسیع کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں
وفاقی وزیر نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ان کی کوششوں سے پاٹا میں ٹیکس چھوٹ برقرار رہی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکسوں پر بات صرف اس وقت ممکن ہے جب علاقے میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح امن، ترقی اور بنیادی عوامی سہولیات میسر ہوں۔ ملک میں جاری وزیراعظم کی بحری ٹاسک فورس، ملکی بندرگاہی نظام میں بڑی اصلاحات کی طرح کے اقدامات کی طرز پر ہی خیبر پختونخوا کے ان علاقوں کو بھی مراعات دی جانی چاہییں۔
احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت
انہوں نے تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری پُرامن احتجاجی مہم کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی کوشش کی حمایت جاری رکھے گی۔ اگرچہ واشک کے علاقے ماشکیل میں دہشت گردوں کا حملہ، 5 مزدور شہید جیسے واقعات سکیورٹی صورتحال کو چیلنج کرتے ہیں، لیکن عوام کو معاشی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
