وزیراعظم کی بحری ٹاسک فورس، ملکی بندرگاہی نظام میں بڑی اصلاحات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کی بحری ٹاسک فورس نے ملکی بندرگاہوں پر انتظامی و آپریشنل اصلاحات کے نتیجے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں، جس سے کارگو کلیئرنس، جگہ کے مؤثر استعمال اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اصلاحات اور آپریشنل بہتری
سرکاری ذرائع کے مطابق نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے متعدد اہم اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ کنٹینرز کی منظم تہہ بندی، کسٹمز معائنے کے طریقہ کار میں سہولت کاری اور بندرگاہوں کی ماسٹر پلان کے مطابق ازسرِ نو ترتیب سے دستیاب جگہ کا بہترین استعمال ممکن ہوا ہے، جبکہ طویل عرصے سے رکے ہوئے کنٹینرز کی کلیئرنس کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اقدامات کے تناظر میں گوادر بندرگاہ پر بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کا آغاز بھی ملک کی سمندری تجارت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی اور جدید سہولیات
مستقبل میں مسائل کی مستقل روک تھام کے لیے کنٹینرز کی آمد سے قبل پیشگی جی ڈی فائلنگ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ کسٹمز رول 554 پر عملدرآمد کے ساتھ 24 گھنٹے فعال خصوصی معائنہ مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں جدید آلات اور اضافی افرادی قوت کی مدد سے کارگو کی ڈی اسٹفنگ اور ری اسٹفنگ کے عمل کو مزید تیز بنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات پی آئی اے کی بحالی کیلئے ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ تعینات کیے جانے کے بعد لاجسٹک شعبے میں بہتری لانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
انتظامی امور اور تجاوزات کا خاتمہ
کراچی پورٹ ٹرسٹ میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور متعلقہ قانونی و انتظامی امور کی سخت نگرانی کر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے کارگو کی نقل و حرکت میں نمایاں تیزی آئے گی، بندرگاہوں پر رش میں کمی ہوگی اور مجموعی بندرگاہی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ پیش رفت ملک کی بحری معیشت کے استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس پر علاقائی کشیدگی کے بعد غیر ملکی ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جنید انوار کی رائے بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان کا لاجسٹک نیٹ ورک اب عالمی معیار کے مطابق بہتر ہو رہا ہے۔
