حوالہ ہنڈی کیس، بحریہ ٹاؤن کے عہدیدار سمیت تین افراد کو قید

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلام آباد کی عدالت نے 1.7 ارب روپے غیر قانونی طور پر حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرنے کے انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو ریٹائرڈ کرنل خلیل الرحمٰن، کرنسی ڈیلر محمد عمران عرف عمران کاکا اور پراپرٹی ڈیلر محمد مشتاق احمد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو ایک ایک سال قیدِ سادہ اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔
غیر قانونی ٹرانزیکشنز کا انکشاف
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر اور قانونی بینکاری ذرائع کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے تقریباً 1.7 ارب روپے کی خطیر رقم بیرون ملک منتقل کی۔ اس غیر قانونی عمل سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے وزیراعظم کی معاشی حکمت عملی سے استحکام کی نئی راہیں کھلیں اور اس ضمن میں ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد انتہائی متحرک ہے۔
مقدمے کا پس منظر اور قانونی کارروائی
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد کی جانب سے جولائی 2025 میں اس مقدمے کا اندراج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے ٹھوس دستاویزی شواہد اور گواہوں کی مدد سے ملزمان پر عائد الزامات ثابت کیے، جس پر عدالت نے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سزا کا حکم جاری کر دیا۔ یاد رہے کہ حکومت حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی منی لانڈرنگ کے خلاف سخت گیر موقف اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی شعبوں کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت کے بعد اب ملکی معاشی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے فیصلوں سے منی لانڈرنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان اور دیگر معاشی چیلنجز کے تناظر میں غیر قانونی ذرائع سے رقم کی منتقلی پر قابو پانا ملکی ساکھ کے لیے انتہائی ناگزیر تھا۔
