پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد اس کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
قیمتوں میں اضافے کے اسباب اور عوامی ردعمل
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات مقامی ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کو ملک میں جاری معاشی حکمت عملی سے استحکام کی نئی راہیں کھلیں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اضافے کی کسی مخصوص وجہ کا ذکر نہیں کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے عام شہریوں پر مہنگائی کا مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
معاشی استحکام اور حکومتی اقدامات
یاد رہے کہ اس سے قبل آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر، وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا تھا کہ معاشی بہتری کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی شعبوں کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت بھی دی جا چکی ہے تاکہ معیشت کے پہیے کو رواں رکھا جا سکے۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہے، جس کے باعث عام آدمی کی قوت خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔
