مون سون 2026: ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا مربوط حکمت عملی پر اتفاق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر قائم کردہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مون سون 2026 کے دوران جان و مال اور قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت اور شرکاء
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے وڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گیا ہے جب پاکستان احسن اقبال کی ناسا حکام سے ملاقات، پاکستان کا خلائی وژن کے تحت اپنے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مون سون کی تیاریوں کا جائزہ
اجلاس کے دوران ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے مون سون 2026 کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کی گئی تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی اداروں کی جانب سے مون سون کے دوران ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ کے شدید خدشات موجود ہیں، جس کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت ماضی میں بھی عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات کرتی رہی ہے جیسے کہ اسلام آباد میں پولیس اہلکار بن کر وارداتیں کرنے والا ملزم گرفتار کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر شعبے میں سیکیورٹی اور احتیاطی تدابیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور تمام سٹیک ہولڈرز و اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر مؤثر رابطہ کاری اور بروقت ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام اداروں کے تعاون سے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومتی سطح پر یہ کوششیں اس وژن کا حصہ ہیں جو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایس ایم ای سیکٹر کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت جیسے معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کو بھی مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔
