احسن اقبال کی ناسا حکام سے ملاقات، پاکستان کا خلائی وژن
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہیوسٹن میں ناسا حکام اور امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے خلائی وژن، خلائی تعلیم، سائنسی تحقیق اور نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان نوجوان نسل میں سائنسی جستجو، تحقیق اور جدت کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے قومی سپیس ایجوکیشن پروگرام پر کام کر رہی ہے۔
نارووال میں سپیس ایکسپلوریشن سینٹر کا قیام
انہوں نے کہا کہ نارووال میں سپیس ایکسپلوریشن سینٹر کے قیام کا منصوبہ اسی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو کائنات، سائنس اور خلائی تحقیق سے روشناس کرانا اور انہیں مستقبل کے سائنسدانوں، محققین اور موجدوں کے طور پر تیار کرنا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ سپیس لرننگ سینٹر محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ قومی سطح پر علم، تحقیق اور اختراع کے فروغ کا ایک اہم سنگ میل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی سائنس سے بچوں اور نوجوانوں کو روشناس کرانا دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ یہی نوجوان آگے چل کر ملک کی سائنسی، تحقیقی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کی قیادت کریں گے۔ اسی تناظر میں، وفاقی حکومت نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا قومی آئی ٹی تربیتی پروگرام کا اعلان پہلے ہی کر دیا ہے۔
عالمی خلائی صنعت میں پاکستانی ٹیلنٹ کا کردار
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا کا قیمتی ٹیلنٹ ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ ناسا اور امریکی اداروں کے اشتراک سے انہیں عالمی معیار کی تربیت، تحقیق اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین عالمی خلائی صنعت میں نمایاں کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کو پاکستان میں ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کرنے اور پاکستانی نوجوان ٹیلنٹ سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ یاد رہے کہ حکومت ملک بھر میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کوشاں ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کا ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کا خلائی ہدف 2035ء اور 2047ء
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا ہدف 2035ء تک چاند پر قومی مشن بھیجنا اور 2047ء تک قمری موجودگی قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وژن محض خلائی مہمات تک محدود نہیں بلکہ علم، تحقیق، جدت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنے کی ایک جامع قومی حکمت عملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلائی پروگرام کو عالمی شراکت داری، جدید تحقیق اور نوجوان افرادی قوت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو جیوپولیٹکس سے آگے بڑھا کر جیو اکنامکس، سائنس اور ٹیکنالوجی شراکت داری تک وسعت دی جائے، جیسا کہ حکومت دیگر شعبوں بشمول پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کے لیے مستقل سیکرٹری تعینات کر دیا ہے، میں بھی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے۔
