اسلام آباد کے سرکاری فلیٹس کرائے پر دینے پر افسران کیخلاف مقدمہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں واقع سرکاری رہائشی فلیٹس پر غیرقانونی قبضہ کرکے انہیں کرائے پر دینے کے سنگین الزام میں تین سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی دارالحکومت میں سرکاری املاک کے تحفظ اور ان کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے کی جا رہی ہے۔
غیر قانونی قبضہ اور کرائے داری کا انکشاف
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ مقدمہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے انفورسمنٹ ونگ کی جانب سے موصول ہونے والی باضابطہ درخواست پر درج کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری رہائش گاہوں پر غیرقانونی قبضہ برقرار رکھا اور ان فلیٹس کو نجی مقاصد کے لیے کرائے پر دے رکھا تھا، جس سے قومی املاک کا نہ صرف ناجائز استعمال ہوا بلکہ قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچا۔ اس سے قبل حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کا ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا اعلان کے بعد سے سرکاری دفاتر اور عمارتوں کے بہتر استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔
سی ڈی اے کی قانونی کارروائی
سی ڈی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایف آئی اے نے تینوں سرکاری افسران کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی سرکاری اداروں میں شفافیت لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں وزیراعظم شہباز شریف کا قومی آئی ٹی تربیتی پروگرام کا اعلان بھی شامل ہے تاکہ حکومتی امور کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
آپریشن کا پس منظر اور مستقبل کا لائحہ عمل
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی ڈی اے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں سرکاری فلیٹس سے غیرقانونی قبضے ختم کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں متعدد فلیٹس کو غیر قانونی قابضین سے خالی کرایا جا چکا ہے، جبکہ حکام کا دو ٹوک کہنا ہے کہ سرکاری املاک پر ناجائز قبضہ یا ان سے مالی فائدہ اٹھانے والے کسی بھی فرد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف: بلوچستان میں امن، دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے کے ویژن کے مطابق ریاستی رٹ کو ہر سطح پر قائم رکھا جائے گا۔
