وفاقی حکومت کا ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا اعلان
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تعلیم نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں جدید ڈیجیٹل کلاس رومز کے قیام کے وسیع تر منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تعلیمی شعبے میں ٹیکنالوجی کے انضمام کے ذریعے معیارِ تعلیم کو بلند کرنا ہے۔ حکومت کے اس وژن کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی آئی ٹی تربیتی پروگرام کا اعلان پہلے سے ہی ملک میں ڈیجیٹل ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے، جس کی روشنی میں اس نئے منصوبے کو مزید وسعت دی گئی ہے۔
پہلے مرحلے کا دائرہ کار
منصوبے کے پہلے مرحلے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک کے پانچ ہزار منتخب سرکاری اسکولوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ ان اسکولوں میں سمارٹ بورڈز، ٹیبلٹس اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ طلباء عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں، جیسے کہ وزیراعظم شہباز شریف: دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی کے عزم کے ساتھ ساتھ، تعلیم کو بھی ایک کلیدی محاذ قرار دیا گیا ہے، تاکہ مستقبل کے معماروں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
دیہی اور شہری تعلیمی فرق کا خاتمہ
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان موجود تعلیمی خلیج کو کم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ بجٹ نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی فراہمی پر خرچ ہوگا بلکہ اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے، تاکہ وہ ڈیجیٹل آلات کا مؤثر اور نتیجہ خیز استعمال سیکھ سکیں۔ اس سے قبل حکومت کی جانب سے مختلف سطحوں پر اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس میں رئیسہ عادل پرنسپل انفارمیشن آفیسر تعینات، مبشر حسن کی تبدیلی جیسے اقدامات انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
