ایران پر امریکی فضائی حملے: خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا اضافہ
واشنگٹن/تہران (خصوصی رپورٹ)۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہونے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی نے جہاں امن مذاکرات کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، وہیں عالمی معیشت کی شہ رگ کہلانے والی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے مکمل کھلنے کے امکانات بھی فی الحال معدوم ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز وہ سٹریٹجک گزرگاہ ہے جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی خام تیل کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ (تقریباً 20 فیصد) گزرتا تھا۔
جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی
جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی تجارت شروع ہوتے ہی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ (Brent Crude) کے سودے 86 سینٹس یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے مستقبل کے سودوں میں بھی 85 سینٹس یا 1.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 74.37 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
بدھ کی شب کا ڈرامائی موڑ اور ٹرمپ کی دھمکیاں
تیل کی قیمتوں میں یہ حالیہ ابھار اچانک نہیں آیا بلکہ اس کی بنیاد بدھ کی رات کو ہی پڑ چکی تھی۔ بدھ کو باقاعدہ کاروباری وقت ختم ہونے کے بعد (Post-settlement trade)، جیسے ہی امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں کارگو بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایرانی اہداف پر نئے اور شدید فضائی حملے شروع کیے، دونوں بینچ مارکس (WTI اور برینٹ) کی قیمتوں میں فوری طور پر ایک ڈالر سے زائد کا تیز ترین اضافہ دیکھنے کو ملا۔
اس تازہ ترین عسکری کارروائی سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے حاشیے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو انتہائی سخت لہجے میں نئی فوجی کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہی مارکیٹ میں اضطراب پھیل گیا تھا اور دونوں بینچ مارکس گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ اب مکمل طور پر "ختم” ہو چکا ہے، کیونکہ تہران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی سیکیورٹی کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کا بحران اور عالمی معیشت پر اثرات
توانائی کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور محققین کا ماننا ہے کہ خام تیل کی مارکیٹ اس وقت جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورتحال کے سامنے انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ مئی کے مہینے میں جب جنگ بندی کی امیدیں روشن تھیں اور کچھ ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی تھی، تو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر کی بلند ترین سطح سے گر کر 80 ڈالر سے نیچے آگئی تھیں۔ لیکن اب جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے اور باقاعدہ فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز سے سپلائی چین کے مکمل بحال ہونے کی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔
انشورنس انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق، بحری جہازوں پر ہونے والے نئے حملوں اور امریکی بمباری کے بعد کئی بڑی بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں نے شپنگ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال آبنائے ہرمز کے راستے اپنے سفر کو معطل کر دیں، جبکہ بعض کمپنیاں خطرے کی شرح بڑھنے کے باعث اپنی انشورنس پالیسیوں کے نرخوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ اگر انشورنس لاگت میں اضافہ برقرار رہا تو پمپ پر عام صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو جائے گا، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
تیل کے بینچ مارکس کی قیمتوں کا تفصیلی چارٹ
تیل کا بینچ مارکتازہ ترین قیمت (فی بیرل)فیصد اضافہبرینٹ کروڈ (Brent Crude)$78.881.1%ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI)$74.371.2%
ماہرین کی رائے
مارکیٹ کے معروف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کار اور ٹریڈرز صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ تصادم مزید شدت اختیار کرتا ہے اور ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر خلیج میں امریکی تنصیبات یا دیگر آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، تو خام تیل کی قیمتیں بہت جلد 80 سے 85 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کر جائیں گی۔ دوست نیوز اس صورتحال اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
