پاکستان اور کرغز جمہوریہ کا سٹریٹجک شراکت داری کا عزم: تعاون کے فروغ پر زور

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔
پاکستان اور کرغز جمہوریہ نے سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ منگل کو جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق یہ اتفاقِ رائے صدر آصف علی زرداری کے کرغز جمہوریہ کے سرکاری دورے کے دوران سامنے آیا جو وہ کرغز جمہوریہ کے صدر سادیر ژاپاروف کی دعوت پر کررہے ہیں۔ صدر مملکت کے دورہ کرغزستان کے دوران ہونے والی بات چیت پر مبنی مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں سربراہانِ مملکت نے روایتی دوستی، باہمی اعتماد اور گہری ہم آہنگی کی فضا میں تفصیلی اور نتیجہ خیز مذاکرات کئے اور پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات کی مسلسل مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دو طرفہ تعلقات میں استحکام اور معاہدوں پر عملدرآمد
دونوں صدور نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دسمبر 2025 میں کرغز صدر کے دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے فعال سیاسی مکالمے کو جاری رکھنے، اعلیٰ ترین سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے اور پارلیمانوں، حکومتوں اور وزارتِ خارجہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی حکومتوں، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں اور تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں کرغز-پاکستان بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی و تکنیکی تعاون اور اس کے مشترکہ ورکنگ گروپس کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
تجارتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ
دونوں ممالک نے کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط کے فروغ، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لئے ہر ممکن سرکاری تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیہ کے مطابق توانائی کے شعبے، خصوصاً کاسا-1000 منصوبے پر مؤثر اور تیز رفتار عملدرآمد کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا اہم محور قرار دیا گیا جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑنے والا ایک اہم منصوبہ ہے۔ دونوں فریقین نے کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، ہلکی صنعت، حلال صنعت، صحت اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ دواسازی کے شعبے میں طبی تعلیم، ریگولیٹری ہم آہنگی، ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات کی تیاری، مشترکہ منصوبوں اور متعلقہ ڈرگ ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے منڈیوں تک رسائی آسان بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل معیشت، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، سیاحت، بینکاری اور مالیاتی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ثقافتی تبادلے
دونوں رہنماؤں نے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں طے شدہ معاہدوں پر عملی عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سامان کی ترسیل کے حجم میں اضافے اور نقل و حمل کے راستوں کو مزید مؤثر بنانے کے لئے اضافی اقدامات پر اتفاق کیا۔ تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے تبادلوں، طبی تعلیم اور صحتِ عامہ کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور عوامی روابط مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

سلامتی کے شعبے میں مشترکہ کوششیں
سلامتی کے شعبے میں دونوں ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ، منظم جرائم، غیر قانونی ہجرت، سائبر جرائم اور دیگر جدید خطرات سے نمٹنے کے لئے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ خطے اور دنیا میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
عالمی امور اور بین الاقوامی تعلقات
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ یکطرفہ اقتصادی اور مالیاتی پابندیاں اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہیں، جو عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ صدر سادیر ژاپاروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 2027-2028 کی مدت کے لیے غیر مستقل رکن کے انتخاب میں کرغزستان کی رکنیت کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر آصف علی زرداری نے کرغزستان کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔ کرغز جمہوریہ نے 2025-2026 کی مدت کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) اور قرارداد 2823 (2026) کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا۔ اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ یہ معاہدہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن و استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے تمام تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان تعاون اور رابطوں کے فروغ کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔
کھیلوں کے میدان میں تعاون
کرغز جمہوریہ نے پاکستان کو 31 اگست سے 7 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والے چھٹے نمیڈ گیمز میں شرکت کی دعوت دی جسے پاکستان نے قبول کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کے وفد اور کھیلوں کی ٹیمیں بھیجنے کی تصدیق کی۔
دورے کا اختتام اور مستقبل کی منصوبہ بندی
دورے کے اختتام پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے کرغز عوام اور صدر سادیر ژاپاروف کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کرغز صدر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ دورے کی تاریخوں کا تعین سفارتی ذرائع سے کیا جائے گا۔
