سعودی عرب کا سیاحوں کیلئے نیا "پیکیج ویزا” متعارف: سفری سہولت میں اضافہ

ریاض: سعودی عرب نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے سفری عمل کو آسان بنانے کی غرض سے ایک نیا پائلٹ پروگرام متعارف کرایا ہے، جسے "پیکیج ویزا” کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت، منظور شدہ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے مکمل سفری پیکیج خریدنے والے مسافر اب ایک ہی مرحلے میں اپنا سیاحتی ویزا حاصل کر سکیں گے۔
سعودی گزٹ کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ویزا حاصل کرنے کے عمل کو مزید موثر، تیز اور سہل بنانا ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاح بغیر کسی پیچیدگی کے سعودی عرب کا سفر اختیار کر سکیں۔
پیکیج ویزا کی خصوصیات
اس پائلٹ پروگرام میں مسافروں کو ایک مربوط سفری پیکیج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس پیکیج میں سیاحتی ویزا کے حصول کے ساتھ ساتھ آمد و رفت کے فضائی ٹکٹ، ہوٹل میں قیام اور دیگر ضروری سیاحتی انتظامات شامل ہوں گے۔
متعلقہ وزارتوں کا تعاون
یہ نیا منصوبہ سعودی وزارتِ سیاحت، وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور انشورنس اتھارٹی کے مشترکہ تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر، اس پروگرام کو منتخب ممالک میں آزمائشی بنیادوں پر لاگو کیا جا رہا ہے تاکہ اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
سعودی وزیرِ سیاحت کا بیان
سعودی وزیرِ سیاحت، احمد الخطیب، نے اس نئی اسکیم کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کے لیے سعودی عرب کا سفر پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور پرکشش بنانا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے نہ صرف سیاحوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ لائسنس یافتہ ٹریول کمپنیوں کو بھی جدید اور مربوط خدمات فراہم کرنے کا ایک نیا موقع ملے گا۔
ٹر २०۰۰ول آپریٹرز کے لیے شرائط
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس پروگرام میں صرف ان ٹریول آپریٹرز کو شامل کیا جائے گا جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ ان شرائط میں جدید آن لائن بکنگ سسٹم کی فراہمی اور 24 گھنٹے صارفین کو معاونت جیسی سہولیات شامل ہیں۔
سیاحت کے فروغ میں اصلاحات
یہ نیا "پیکیج ویزا” پروگرام سعودی عرب کی جانب سے سیاحت کے شعبے میں جاری وسیع تر اصلاحات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی مملکت کی جانب سے سیاحتی ای ویزا، ویزا آن ارائیول اور اسٹاپ اوور ٹرانزٹ ویزا جیسی متعدد سہولیات متعارف کرائی جا چکی ہیں، جن کا مقصد ملک میں سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
متوقع اثرات
سعودی حکام کو اس "پیکیج ویزا” پروگرام سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس سے مملکت آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، ان کے قیام کا دورانیہ بڑھے گا اور بالآخر سیاحت سے حاصل ہونے والی قومی آمدنی میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
