یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں: 1300 سے زائد ہلاکتیں، اربوں یورو کا نقصان
یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں متعدد ممالک میں درجہ حرارت 40 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باعث اب تک 1,300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس غیر معمولی تپش نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ جنگلات میں لگی آگ، زرعی نقصانات، بجلی کے بحران اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعطل کی وجہ سے یورپی معیشت کو اربوں یورو کا دھچکا پہنچایا ہے۔
فرانس اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور ملک کے کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ نافذ کر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے۔ شدید گرمی کے بعد آنے والے طوفانوں نے بجلی کی فراہمی بھی معطل کر دی ہے۔ دوسری جانب اسپین میں گرمی سے اب تک 327 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وہاں ہزاروں ہیکٹر پر محیط جنگلات جلنے کے ساتھ ساتھ فصلوں، مویشیوں اور آبی ذخائر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اٹلی اور جرمنی میں شدید تپش کے اثرات
اٹلی میں شدید تپش اور خشک سالی کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک گر گئی ہے، جس سے زراعت، آبپاشی اور پن بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جرمنی میں پگھلتی سڑکوں اور ریل و ٹرام سروسز میں رکاوٹوں نے سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ متاثر کیا ہے، جبکہ جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے دوران وہاں دوسری جنگ عظیم کے غیر پھٹے گولہ بارود کی موجودگی نے ریسکیو آپریشنز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں صورتحال
برطانیہ میں بھی ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد اسکول عارضی طور پر بند کرنے پڑے اور اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پرتگال، یونان، پولینڈ، چیکیا، ہنگری، آسٹریا اور بلقان کے ممالک میں بھی ائیر کنڈیشنرز کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے پاور گرڈز پر شدید دباؤ ہے اور سیاحتی سرگرمیاں مانند پڑ گئی ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کی پیش گوئی اور حکومتی اقدامات
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، اس وقت یورپ بھر میں تقریباً 19 کروڑ سے زائد افراد اس شدید موسم سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب یورپ میں ایسی ہلاکت خیز ہیٹ ویوز کا تسلسل اور شدت مزید بڑھے گی۔ صورتحال کے پیشِ نظر یورپی حکومتوں نے شہریوں کو بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا استعمال بڑھانے اور بچوں و بزرگوں کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی مراکز اور کولنگ سینٹرز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔
