عدم قدرت کی دریافت
محمد خالد
قرآن کی سوره البلد میں ارشاد هوا ہے : یعنی هم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا- کیا وه یہ سمجهتا ہے کہ اس کے اوپر کسی کو قدرت حاصل نہیں-
یہاں انسان سے مراد بنی نوع انسان ہے، اور کبد سے مراد سختی sufferings ہے- قرآن کے اس حصے میں کبد کے ساتھ قدرت کا ذکر ہے- اس سے کبد کی مصلحت معلوم هوتی ہے- انسان کو اللہ نے غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا- اسی کے ساتھ اس کو ایسے حالات میں ڈال دیا کہ وه ہمیشہ کسی نہ کسی کبد میں مبتلا رہے، بظاہر سب کچهہ حاصل کرنے کے باوجود اس کی زندگی کبد سے خالی نہ هو- ایسا اس لیے کیا گیا کہ انسان اپنی عدم قدرت کو دریافت کر سکے- انسانی زندگی میں بظاہر قدرت کے باوجود کبد کے پائے جانے کی مصلحت یہی ہے-
اس اعتبار سے دیکهئے تو انسانی زندگی میں کبد کا پایا جانا زحمت میں رحمت کا معاملہ ہے- خدا سب سے بڑی حقیقت هونے کے باوجود غیب میں ہے- لازمی کبد کی صورت میں خدا انسان کو اپنی موجودگی کا تجربہ کراتا ہے-
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی مصیبت اس لیے آتی ہے تاکہ انسان کے دل سے دعا نکلے- دعا نکلنے کا مطلب صرف دعا کے الفاظ نکلنا نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ذہن بیدار هو، اس کے اندر اعلی کیفیات پیدا هوں، وه خدا کی صفات کو نئ نئ صورتوں میں دریافت کرنے لگے، اور جب ایسا هو گا تو اس کی زبان سے دعا کے ایسے الفاظ نکلیں گے جو عام حالات میں اس کی زبان سے نہیں نکلے تهے-
کتاب معرفت
مولانا وحیدالدین خان
