مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,961 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,961
بزنس

بجٹ 2026-27: پاکستان کی آٹو انڈسٹری اور گاڑیوں کے لیے نئی پالیسی

📅 پیر، 15 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 18 منٹ
auto policy 2026-27
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

(نمائندہ خصوصی) وفاقی بجٹ 2026-27 میں پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے کوئی ایک جامع، حتمی اور مستقل آٹو پالیسی تو متعارف نہیں کرائی گئی، تاہم حکومت نے بجٹ 2026-27: پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے نئی ٹیکس پالیسی کے تحت ٹیکسز، درآمدی ڈیوٹیز، الیکٹرک وہیکلز (ای وی)، گرین ٹرانسپورٹ اور ٹوکن ٹیکس سے متعلق متعدد اہم اور دُوررس اقدامات تجویز کیے ہیں۔ مجموعی طور پر اس بجٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ حکومت مہنگی درآمدی اور بھاری انجن والی گاڑیوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں، خاص طور پر مقامی سطح پر اسمبلنگ، پبلک ٹرانسپورٹ بسوں، مال بردار ٹرکوں، اور دو پہیا و تین پہیا گاڑیوں (موٹر سائیکلوں اور رکشوں) کو پالیسی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس بجٹ میں آٹو سیکٹر کے لیے سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آٹو موبائل کی صنعت، صارفین، اسمبلرز، ڈیلرز اور غیر ملکی سرمایہ کار فی الحال ایک بڑے اور حتمی پالیسی فیصلے کے منتظر ہیں۔ بجٹ میں کی جانے والی تبدیلیاں زیادہ تر عبوری نوعیت کی ہیں، یعنی حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے ٹیکس اور رعایتوں کا ایک عارضی ڈھانچہ فراہم کیا ہے، لیکن طویل مدتی آٹو پالیسی اب بھی کابینہ اور متعلقہ فورمز سے حتمی منظوری کی منتظر ہے۔ اس حوالے سے سرکاری ذرائع اور ریڈیو پاکستان کے مطابق بجٹ میں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔

1. بڑی اور مہنگی درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بوجھ میں اضافہ

بجٹ 2026-27 میں وفاقی حکومت نے درآمدی بڑی گاڑیوں، اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) اور لگژری کاروں پر خصوصی ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی سمت اختیار کی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد دوہرا نظر آتا ہے: ایک طرف حکومت ملکی ریونیو میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف درآمدی بل کو قابو میں رکھ کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا چاہتی ہے۔

مجوزہ ٹیکس فریم ورک کے تحت 2000 سی سی سے لے کر 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 40 فیصد تک ایڈ ویلیورم (Ad Valorem) ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 3000 سی سی سے زائد انجن کیپیسیٹی والی گاڑیوں کے لیے یہ شرح 41 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں بڑے انجن کی حامل درآمدی گاڑیاں، لگژری ایس یو ویز اور ہائی اینڈ کاریں مارکیٹ میں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

یہ قدم عام آدمی کی چھوٹی گاڑی کے لیے براہ راست ریلیف نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی طور پر لگژری امپورٹ مارکیٹ اور امیر طبقے کو ہدف بناتا ہے۔ حکومت کا یہ اشارہ بالکل واضح ہے کہ پاکستان میں اب درآمدی لگژری گاڑیوں کے بجائے مقامی مینوفیکچرنگ، چھوٹی گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

2. درآمدی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی ٹیکس سلیب

بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور نئی پالیسی سامنے آئی ہے۔ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کو یکسر ٹیکس فری یا کھلی چھوٹ نہیں دے رہی، بلکہ اب ان کی قیمت اور معیار کے مطابق ٹیکس سلیب مقرر کیے جا رہے ہیں۔

مجوزہ پالیسی کے تحت اگر کوئی الیکٹرک کار, الیکٹرک ایس یو وی یا الیکٹرک پک اَپ ذاتی استعمال کے لیے مکمل تیار شدہ حالت (CBU) میں درآمد کی جاتی ہے تو اس پر گاڑی کی کل قیمت کے حساب سے مختلف ٹیکس شرحیں لاگو ہوں گی:

  • 20 ملین (2 کروڑ) روپے تک کی مالیت والی درآمدی الیکٹرک گاڑی پر کسٹمز ڈیوٹی صفر فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
  • 20 ملین سے 30 ملین (3 کروڑ) روپے تک کی درآمدی الیکٹرک گاڑی پر 30 فیصد ڈیوٹی تجویز کی گئی ہے۔
  • 30 ملین روپے سے زائد مالیت کی مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی لاگو کی جا سکتی ہے۔

اس نئی سلیبنگ کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت سستی اور متوسط طبقے کے لیے قابلِ رسائی الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے، لیکن انتہائی مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں کو رعایت کے نام پر کھلی چھوٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ یہ پالیسی اس معاشی سوچ کو ظاہر کرتی ہے کہ الیکٹرک ٹیکنالوجی کا فائدہ ملک کو ماحولیاتی اور ایندھن کی بچت کی صورت میں ملے، نہ کہ یہ صرف اشرافیہ کی لگژری درآمدات کا ذریعہ بنے۔

3. الیکٹرک بسوں، ٹرکوں اور مقامی EV اسمبلنگ کے لیے سہولت

بجٹ میں الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک ٹرکوں کے لیے رعایتی ٹیکس پالیسی کو برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کا واضح اشارہ دیا گیا ہے۔ حکومت نے تجویز کیا ہے کہ 25 نشستوں یا اس سے زائد گنجائش والی الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ بسیں اور الیکٹرک مال بردار ٹرک اگر مکمل تیار شدہ (CBU) حالت میں درآمد کیے جاتے ہیں تو ان پر محض 1 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت کی مدت کو 30 جون 2027 تک بڑھا دیا جائے۔

یہ اقدام پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا شدید بحران ہے، اور ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے درآمدی اخراجات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ اگر الیکٹرک بسیں اور ٹرک اس پالیسی سپورٹ کے تحت مارکیٹ میں آتے ہیں تو اس سے شہری ٹرانسپورٹ کے نظام، لاجسٹکس سروسز، ایندھن کی بچت اور اسموگ جیسے بڑے ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ، ای وی سی کے ڈی (CKD) کٹس یعنی الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے دی جانے والی ٹیکس رعایت کو بھی مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ اس رعایت کے دائرہ کار میں الیکٹرک موٹر سائیکلیں، تھری وہیلر رکشے، گاڑیاں اور بسیں شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان صرف تیار شدہ گاڑیاں درآمد کرنے والی کنزیومر مارکیٹ نہ رہے بلکہ ملک میں مقامی مینوفیکچرنگ، پرزہ سازی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ حاصل ہو۔

4. الیکٹرک وہیکل اسکیم کے لیے 8 ارب روپے

مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں الیکٹرک وہیکل اسکیم کی ترویج کے لیے 8 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں قدرے کم ہے، لیکن اس کے باوجود یہ حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ملک میں گرین انرجی اور ای وی سیکٹر کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرنا چاہتی。

یہ فنڈز خاص طور پر الیکٹرک بائیکس، الیکٹرک رکشوں، ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ اور ممکنہ طور پر ‘پروٹیکٹڈ الیکٹرک وہیکل’ (PAVE) جیسے وفاقی پروگراموں کے فروغ کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں موٹر سائیکل عام آدمی کی سب سے بڑی اور ناگزیر ضرورت ہے، وہاں الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر حکومتی سبسڈی یا بلاسود اور آسان اقساط پر فنانسنگ کا پروگرام ایک بہت بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر اس مختص کردہ اسکیم کو شفافیت اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس سے ملک کے لاکھوں نوجوانوں، رائیڈ شیئرنگ ڈلیوری رائیڈرز، چھوٹے کاروباریوں، رکشہ ڈرائیوروں اور کم آمدنی والے ملازم پیشہ طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، اس کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ اسکیم کاغذی اعلانات سے نکل کر واقعی عام صارفین تک پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔

5. اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کا نیا ڈھانچہ

وفاقی بجٹ میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) کے حدود کے لیے موٹر وہیکل ٹوکن ٹیکس کے نظام میں ایک بڑی ساختی تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ نئے مجوزہ ڈھانچے کے مطابق اب ٹوکن ٹیکس کا تعین درج ذیل فارمولے کے تحت ہوگا:

  • 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے سالانہ 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
  • 1001 سی سی سے لے کر 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر گاڑی کی انوائس ویلیو (اصل قیمت) کا 0.25 فیصد سالانہ ٹیکس عائد ہوگا۔
  • 2000 سی سی سے اوپر کی بڑی گاڑیوں پر گاڑی کی کل انوائس ویلیو کا 0.35 فیصد سالانہ ٹوکن ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

یہ ایک انتہائی اہم اور جدید اصلاحات پر مبنی تبدیلی ہے کیونکہ اب ٹوکن ٹیکس صرف گاڑی کی انجن کیپیسیٹی کے بجائے اس کی حقیقی مارکیٹ قیمت سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے مہنگی اور پرتعیش گاڑیاں رکھنے والے صارفین کے لیے سالانہ ٹیکس لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے حکومت کو اضافی رینیو حاصل ہوگا لیکن کار مالکان کی اونرشپ کاسٹ بڑھ جائے گی۔

اس کے علاوہ کمرشل گاڑیوں، پبلک سروس ٹرانسپورٹ اور مال بردار لوڈنگ گاڑیوں کے لیے بھی الگ الگ سالانہ ٹیکس کی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ سیکٹر، گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیوں، بسوں، ویگنوں اور کمرشل گاڑیوں کے فلیٹس پر پڑیں گے، جس کے نتیجے میں کرایوں اور مال برداری کے اخراجات میں کچھ حد تک اضافے کا احتمال رد نہیں کیا جا سکتا۔

6. عام گاڑی خریدنے والے صارف کے لیے کیا بدلے گا؟

پاکستان کے عام متوسط طبقے کے خریدار کے لیے موجودہ بجٹ کا فوری اور سادہ مطلب یہ ہے کہ ملک میں گاڑی خریدنا سستا نہیں ہو رہا۔ حکومت کے ان اقدامات پر اپوزیشن کی جانب سے بھی تنقید کی گئی ہے، جیسا کہ وفاقی بجٹ پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، غریب دشمن قرار دیا گیا ہے۔ خاص طور پر مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی چھوٹی اور درمیانی گاڑیوں کے لیے بجٹ میں کسی بڑے براہ راست ریلیف یا سیلز ٹیکس میں کٹوتی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اگر کوئی صارف نئی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے تو گاڑیوں کی قیمتوں پر اصل اثرات آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، درآمدی پرزہ جات کی لاگت، موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح، بینک فنانسنگ کے مارک اپ ریٹس اور کار ساز کمپنیوں کی اپنی پرائسنگ پالیسی کے ساتھ ساتھ نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔

دوسری جانب، بڑی درآمدی گاڑیاں، پرتعیش ایس یو ویز اور انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں اب مزید پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ تاہم، الیکٹرک بائیکس، الیکٹرک رکشوں، ای بسوں اور مقامی طور پر اسمبل ہونے والی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ماحول کو نسبتاً سازگار اور پرکشش بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کا فائدہ فوری طور پر ملک کے ہر شہری کو محسوس نہیں ہوگا، لیکن اگر آنے والے وقت میں کمپنیوں کے درمیان صحت مند مسابقت بڑھے، مقامی مینوفیکچرنگ میں تیزی آئے اور بینکوں سے آسان فنانسنگ دستیاب ہو، تو یہ الیکٹرک وہیکلز (EVs) عام صارفین کے لیے روایتی پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں ایک سستا اور بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔

7. آٹو انڈسٹری کے لیے فائدہ یا دباؤ؟

پاکستان کی مجموعی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ بجٹ ملے جلے اثرات کا حامل ہے۔ ایک طرف جہاں مقامی ای وی (EV) اسمبلرز، الیکٹرک بائیک بنانے والے مقامی کارخانوں، رکشہ مینوفیکچررز، اور الیکٹرک بس و ٹرک مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے یہ بجٹ انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا اشارے دے رہا ہے، وہیں دوسری طرف روایتی ایندھن (پٹرول و ڈیزل) پر چلنے والی گاڑیوں کی بڑی صنعت کے لیے کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی روایتی آٹو انڈسٹری اس وقت پہلے ہی تاریخی طور پر بلند پیداواری لاگت، مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی شدید کم ہوتی ہوئی طلب، مہنگی بینک فنانسنگ، پرزہ جات کی درآمد پر پابندیوں یا تاخیر، اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور بی بی سی اردو کی رپورٹس کے مطابق، انڈسٹری کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کوئی جامع معاشی بحالی پیکیج نہیں دیا گیا، بلکہ حکومت کی تمام تر توجہ محض ریونیو کے حصول، درآمدی بل کے کنٹرول اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی پر مرکوز رہی ہے۔

8. نئی آٹو پالیسی 2026-31 اصل گیم چینجر ہو گی

موجودہ بجٹ کے عارضی اقدامات کے باوجود، Pakistan کے آٹو سیکٹر کی اصل سمت کا تعین نئی آنے والی آٹو پالیسی 2026-31 ہی کرے گی۔ یہی طویل مدتی پالیسی طے کرے گی کہ پاکستان اگلے پانچ سالوں میں آٹو موبائل کے شعبے میں کیا پوزیشن اختیار کرے گا۔ اس پالیسی میں مقامی گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے پھیلاؤ، ہائبرڈ ٹیکنالوجی، ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر، مقامی سطح پر پرزہ سازی (لوکلائزیشن)، گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینے، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی شرائط اور نئی آنے والی بیرونی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اس نازک مرحلے پر آٹو انڈسٹری کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ہے ‘پالیسی کا تسلسل’۔ اگر حکومت ہر سال اپنے بجٹ میں ٹیکسوں کے قوانین تبدیل کرتی رہے گی اور پانچ سالہ واضح روڈ میپ فراہم نہیں کرے گی، تو غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے کترائیں گے اور صارفین بھی گاڑیوں کی خریداری سے متعلق دور رس فیصلے نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے بجٹ 2026-27 کو آٹو پالیسی کا متبادل نہیں بلکہ ایک عبوری اور وقتی مالیاتی اقدام سمجھا جانا چاہیے۔

9. ماحولیاتی اور معاشی پہلو

پاکستان کے لیے ایندھن کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ اگر الیکٹرک موٹر سائیکلیں، رکشے، بسیں اور کمرشل ٹرک بڑے پیمانے پر ملکی سڑکوں پر آ جاتے ہیں، تو ملک کو پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام ملک کے بڑے شہروں میں زہریلے دھوئیں اور اسموگ کے خاتمے کا سبب بنے گا۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اٹھائے گئے دیگر اقدامات میں پنجاب میں ماحولیاتی بہتری کے لیے نیا قدم، لیکوئیڈ ٹری منصوبے کا آغاز بھی شامل ہے جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم، پاکستان میں حقیقی ای وی (EV) انقلاب صرف ٹیکسوں کی رعایت دینے سے ممکن نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ملک گیر سطح پر چارجنگ اسٹیشنز کا جال بچھانے، سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی، درآمدی بیٹریوں کے معیار کی سخت نگرانی، بعد از فروخت سروسز (After-Sales Services)، سستی بینکنگ فنانسنگ اور گاڑیوں کے پرزوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کو یقینی بنانا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے بجٹ میں گرین ریونیو، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور ای وی اپنانے کی حوصلہ افزائی جیسے تصورات کو شامل کرنا ایک مثبت آغاز ہے۔ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب آٹو سیکٹر کو صرف ایک صنعتی یا تجارتی شعبہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے ملکی ماحولیات، توانائی کے تحفظ اور جدید شہری ٹرانسپورٹ پالیسی کا ایک لازمی اور اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 میں گاڑیوں اور آٹو انڈسٹری کے لیے حکومت پاکستان کی پالیسی واضح طور پر تین بنیادی ستونوں پر کھڑی نظر آتی ہے: مہنگی درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی سختی، الیکٹرک اور ماحول دوست گرین ٹرانسپورٹ کے لیے مشروط سہولیات کی فراہمی، اور نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 کی آمد کا انتظار۔

یہ بجٹ ملک کے عام کار خریدار کے لیے کوئی فوری ریلیف یا خوشخبری لے کر نہیں آیا، بلکہ یہ خالصتاً حکومتی ریونیو بڑھانے اور ملکی امپورٹ بل کو کنٹرول کرنے کا بجٹ ہے۔ ای وی (EV) سیکٹر کے لیے امید کی کرن ضرور موجود ہے، لیکن اس کا حقیقی فائدہ تبھی ممکن ہوگا جب حکومتی سبسڈیز اور مراعات براہ راست عام صارف تک منتقل ہوں، مقامی اسمبلنگ کے یونٹس مضبوط ہوں، چارجنگ انفراسٹرکچر کا چیلنج حل ہو، اور نئی آٹو پالیسی بغیر کسی ابہام کے مستقل بنیادوں پر نافذ کی جائے۔

پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے مالی سال 2026-27 ایک انتہائی فیصلہ کن سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت پالیسیوں کے تسلسل، ٹیکسوں کے استحکام اور مقامی پیداوار کے فروغ کو سنجیدگی سے آگے بڑھاتی ہے، تو یہ بحران زدہ شعبہ ایک بار پھر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسیوں میں ابہام، سخت مانیٹری پالیسی، مہنگی فنانسنگ اور ٹیکسوں کے نظام میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، تو گاڑی خریدنا عام آدمی کے لیے محض ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔

ٹیگز: #الیکٹرک گاڑیاں #بجٹ 2026-27 #پاکستان آٹو انڈسٹری #ٹوکن ٹیکس اسلام آباد #گاڑیوں کی قیمتیں
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں