احسن اقبال کی یونیورسٹی آف نارووال کے طلبہ کے منصوبوں کی تعریف
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوان بے پناہ اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں، اگر انہیں درست مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان دنیا کی صفِ اول کی معاشی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے دورے کے دوران کہی، جہاں احسن اقبال نے یونیورسٹی آف نارووال میں طلبہ کے منصوبوں کا معائنہ بھی کیا۔
نارووال یونیورسٹی کے طلبہ کے منصوبوں کا جائزہ
سرکاری خبر رساں ادارے اور ریڈیو پاکستان کے مطابق، وفاقی وزیر نے یونیورسٹی میں منعقدہ سالانہ نمائش "ایکسپونینشیا 26” (Exponentia 26) کا دورہ کیا اور وہاں فائنل ایئر کے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے ڈیزائن منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس نمائش میں کمپیوٹر سائنس، سول، الیکٹریکل، میکانیکل، بائیو میڈیکل انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنے تیار کردہ جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے۔
نارووال میں انجینئرنگ یونیورسٹی کا خواب سچ ہو گیا: احسن اقبال
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس پسماندہ خطے میں انجینئرنگ یونیورسٹی کا قیام ان کا ایک دیرینہ خواب تھا جو آج پورا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، "مجھے آج یہاں آ کر دلی خوشی ہو رہی ہے۔ میرا خواب تھا کہ نارووال میں ایک بہترین انجینئرنگ یونیورسٹی قائم ہو، اور آج یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں انجینئرز فارغ التحصیل ہو کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔”
مستقبل علم اور ٹیکنالوجی کا ہے
انہوں نے نوجوانوں کی محنت اور علمی قابلیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اب بقا اور ترقی کا مقابلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ہو رہا ہے۔ جو قومیں تعلیم اور جدت پسندی میں سرمایہ کاری کریں گی، وہی دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا سفر
وفاقی وزیر نے ماضی کے سیاسی عدم استحکام اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم ملکی معیشت کی بحالی اور معاشی ترقی کا عزم دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن و امان اور سیاسی تسلسل برقرار رہا تو اگلے پانچ سے دس سالوں میں پاکستان دنیا کی تیز ترین معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ انہوں نے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے آخر میں انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
