مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,011 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,011
بزنس

وفاقی بجٹ پر ملکی کاروباری اور صنعتی تنظیموں کا خیرمقدمی ردعمل

📅 اتوار، 14 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سمیت ملک بھر کی ممتاز تجارتی و صنعتی تنظیموں نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ کاروباری برادری نے اسے معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ایک مثبت اور متوازن دستاویز قرار دیا ہے۔

معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے خوش آئند قدم

ایف پی سی سی آئی اور دیگر تجارتی تنظیموں نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سمیت پوری معاشی ٹیم کو ایک متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروباری برادری حکومت کے ساتھ اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔

تنخواہ دار طبقے اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ریلیف اقدامات

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے اور انکم ٹیکس سلیبس میں اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مزید برآں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سپر ٹیکس میں کمی اور برآمدی شعبے کے لیے خصوصی مراعات کو ملکی معیشت کے لیے انتہائی سازگار قرار دیا گیا ہے۔ راولپنڈی چیمبر کے مطابق، ان اقدامات سے متوسط طبقے کو ریلیف ملے گا اور کاروباری ماحول میں بہتری آئے گی۔

بینکنگ سیکٹر اور پاکستان بزنس کونسل کا موقف

پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی ٹیم نے جامع اور پائیدار ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ دوسری جانب، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے حکام نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں بعد ایک ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہے جو محض بحران سے نمٹنے کے بجائے طویل مدتی ترقیاتی اہداف پر مرکوز ہے۔ بینکنگ سیکٹر نے یقین دلایا ہے کہ وہ نجی شعبے کی معاونت اور معاشی بحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں