وزیر خزانہ: بجٹ 27-2026 معاشی استحکام کے بعد ترقی کا سفر شروع کرے گا

اسلام آباد (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی استحکام کے مرحلے میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اب برآمدات، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ عوام، تنخواہ دار طبقے، مزدوروں، کسانوں اور کاروباری برادری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
معاشی استحکام سے ترقی کی جانب
وزیر خزانہ نے ہفتہ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے قوم کو یقین دلایا تھا کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور آج بجٹ میں پیش کیے گئے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان معاشی استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے محدود مالی وسائل کے باوجود دستیاب گنجائش کو زیادہ سے زیادہ عوامی فلاح، معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران تنخواہ دار طبقے خصوصاً کم آمدنی والے ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح تھی۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے نچلے درجے کے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ سے متاثر ہونے والے طبقات کو سہولت مل سکے۔
برآمدات اور کاروباری سرگرمیاں
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت مسلسل برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت وزیراعظم کی ہدایت پر برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صنعت اور برآمدی شعبے کو کم لاگت فنانسنگ کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ٹیرف اصلاحات کے دوسرے مرحلے پر بھی عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ نوجوانوں کو کاروبار اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 262 ارب روپے کے قرضہ پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے۔
زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی معاونت
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی معاونت اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ زرعی قرضوں کا حجم 15 فیصد اضافے کے بعد دو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون پروگرام کے تحت 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 125 ارب روپے زراعت کے لیے مخصوص ہیں۔ چھوٹے کسانوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے "زرخیزی اسکیم” متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔
تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر میں سہولتیں
تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس شعبے میں سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ حکومت کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ ایک عام مزدور اور ڈرائیور کے لیے بھی گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے قرض حاصل کرنا ممکن ہوا ہے۔
ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ میں وسعت
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ادارے کو آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انسانی مداخلت کم کرنے اور صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کے لیے کسٹمز نظام کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریٹیلر اسکیم سمیت متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر پینلز
پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ صرف لیوی کے ڈھانچے میں ضروری ردوبدل کیا جاتا ہے۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں اور تمام متعلقہ حلقوں کو درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے اہداف
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشن اور دیگر سہولتوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو مرکزی کردار دینا ہوگا اور حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ 27-2026 کا بنیادی مقصد معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، زرعی اور صنعتی شعبوں کو مضبوط بنانا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
