وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال: آئین اور جمہوریت کے فروغ کیلئے بات
آئین و جمہوریت کے فروغ کیلئے مذاکرات
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لیے اپوزیشن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہماری سکیورٹی فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں، اور ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کی طرف سے اٹھائے گئے تمام نکات کو غور سے سننے کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کا جواب مناسب موقع پر تفصیل سے دیا جائے گا۔ انہوں نے اس ایوان کو ایک گھر کی مانند قرار دیا جہاں پاکستان کے چاروں صوبوں سے منتخب ارکان موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سب کا احترام ہے اور پاکستان کو مضبوط بنانے اور باہمی تعلقات میں موجود دراڑوں کو دور کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے عزت و احترام کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاست، نظریات اور سوچ اپنی اپنی ہو سکتی ہے لیکن پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی بطور اپوزیشن لیڈر انہوں نے میثاق جمہوریت کی طرز پر میثاق معیشت کی دعوت دی تھی، تاہم اسے حقارت سے ٹھکرایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج بھی وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
صوبائی وسائل اور بلوچستان کی ترقی
وزیراعظم شہباز شریف نے قائد حزب اختلاف کی جانب سے صوبوں کے وسائل کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے معاشی وسائل ان کا حق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے ریکوڈک معاہدے کو ایک روشن مثال قرار دیا جو بلوچستان کے زعماء سے بھرپور مشاورت سے معرض وجود میں آیا، اور اس میں بلوچستان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کو پاکستان کی تاریخ کا دسواں ایوارڈ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان، جو ایک خوبصورت صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر لوگوں کی سرزمین ہے، کے حصے میں سو فیصد اضافہ کیا گیا۔ اس میں تمام صوبوں نے قربانی دی اور پنجاب نے اپنے حصے سے سب سے زیادہ بلوچستان کو دیا، جس میں سالانہ 11 ارب روپے شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہمارے پاس ایک روٹی ہوگی تو ہم مل بانٹ کر کھائیں گے، اور یہ احسان نہیں بلکہ یکجہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اور معاشرتی انصاف کے بغیر گھر بھی نہیں چلتا۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں ترقیاتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جس میں دو سال قبل کاشتکاروں کو 70 ارب روپے کی لاگت سے سولر پینلز کی فراہمی شامل ہے، جس میں 50 ارب روپے وفاق نے دیے۔ اسی طرح، 300 ارب روپے کی لاگت سے گوادر سے چمن دورویہ کیرج وے تعمیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قائد حزب اختلاف کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ بطور وزیراعظم ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں مساوی ہوں۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ اس کے لیے وقت درکار ہے اور یہ راتوں رات ممکن نہیں، یہ مل کر ہی ممکن ہے۔
دہشت گردی کے خلاف قربانیاں
وزیراعظم نے افواج پاکستان کی وطن کے دفاع کے لیے لازوال قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے تین دن قبل ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے 22 افسران و جوانوں کا ذکر کیا، جن میں دو مسیحی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دن رات دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، اور اس دہشت گردی میں مالی اور تکنیکی معاونت کے خارجی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں سرحد پر باڑ اپنی سلامتی کے لیے لگائی گئی ہے۔
وزیراعظم نے شہید ہونے والے افسران و جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو یتیم کر کے پاکستان کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں۔ انہوں نے شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت اور ان کے معصوم بچوں سے ملاقات کا بھی ذکر کیا جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ ان کے والدین شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں مل کر ان کی قربانیوں کو عزت و تکریم دینا ہوگی اور اگر آج ہم نے غفلت کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
