وفاقی بجٹ 2026-27: استحکام، دفاع، ٹیکس ریلیف اور ترقیاتی ترجیحات کا نیا مالی خاکہ
وفاقی بجٹ 2026-27 مکمل رپورٹ: دفاع، ٹیکس، تنخواہیں، ترقیاتی بجٹ، توانائی، آئی ٹی اور عوامی ریلیف
وفاقی بجٹ 2026-27: استحکام سے ترقی تک، حکومت نے دفاع، ٹیکس ریلیف اور معاشی اصلاحات کو مرکزی ترجیح بنا دیا
اسلام آباد، دوست نیوز خصوصی رپورٹ:
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 18.771 کھرب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جسے حکومت نے “معاشی استحکام، اصلاحات اور ترقی” کا بجٹ قرار دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان گزشتہ برسوں کے بحران، بلند افراطِ زر، زرمبادلہ کے دباؤ، توانائی کے گردشی قرضے، عالمی منڈیوں کی بے یقینی، علاقائی کشیدگی اور آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط کے باوجود معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے بجٹ کا اصل مقصد معیشت کو دوبارہ پائیدار ترقی کے راستے پر لانا، عوام کو محدود مگر ہدفی ریلیف دینا، ٹیکس نظام کو شفاف بنانا، دفاعی صلاحیت کو مضبوط رکھنا، سرمایہ کاری کو بحال کرنا اور ریاستی اخراجات کو زیادہ منظم انداز میں چلانا ہے۔
بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب خطے میں سلامتی کے مسائل، عالمی تیل قیمتوں کا دباؤ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، درآمدی بل، موسمیاتی خطرات اور اندرونی مالیاتی چیلنجز پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد، افراطِ زر کا تخمینہ 8.2 فیصد، مالیاتی خسارہ 3.6 فیصد اور بنیادی سرپلس 2 فیصد مقرر کیا ہے۔ یہ اہداف بظاہر محتاط ہیں، مگر حکومت کے مطابق ان کا مقصد معیشت کو مصنوعی تیزی کے بجائے پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے۔
مجموعی بجٹ حجم اور مالیاتی سمت
وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18.771 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود، دفاع، پنشن، سبسڈیز، گرانٹس، سول انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بجٹ کی ساخت سے واضح ہے کہ حکومت کے پاس عوامی ریلیف کے لیے بہت زیادہ گنجائش نہیں، کیونکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی، دفاعی ضروریات اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف بجٹ کے بڑے حصے کو پہلے ہی اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
حکومت نے ایف بی آر کے لیے آئندہ مالی سال میں 15.264 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 5.336 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں وفاقی خالص آمدن، صوبوں کے حصے، قابل تقسیم محاصل، ترقیاتی اخراجات اور دفاعی ضروریات کے درمیان ایک نیا توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا گوشوارہ نہیں بلکہ اصلاحات کا روڈ میپ ہے۔
معاشی کارکردگی: حکومت کا دعویٰ، بحران سے نکل کر استحکام کی طرف
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں گزشتہ دو برسوں کی معاشی کارکردگی کو حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا، خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد نمو دیکھی گئی اور پاکستان کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ فی کس آمدن 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر تک پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
حکومت کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین سال پہلے کے تقریباً 4 ارب ڈالر کی سطح سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جس سے تین ماہ کے درآمدی بل کے برابر کور دستیاب ہے۔ ترسیلاتِ زر کے بارے میں بتایا گیا کہ 11 ماہ میں 38 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین ترسیلاتِ زر میں سے ایک ہو گا۔
اسی طرح پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد تک آنے کو بھی حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق حقیقی چیلنج یہ ہو گا کہ شرح سود میں کمی کا فائدہ سرمایہ کاری، روزگار، صنعت، برآمدات اور عام آدمی کی قوتِ خرید تک کتنی تیزی سے پہنچتا ہے۔
دفاعی بجٹ: قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح
بجٹ 2026-27 میں دفاع کے لیے 3 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے دفاعی اخراجات میں اضافہ خطے کی غیر یقینی صورتحال، حالیہ علاقائی کشیدگی، پاک بھارت تناؤ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور ملکی سلامتی کے تقاضوں سے جوڑا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مضبوط دفاع نہ صرف قومی خودمختاری کے لیے ناگزیر ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اب سفارتی اور معاشی سطح پر بھی اثرات پیدا کر رہی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت نے عالمی سطح پر ملک کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ دفاعی شعبے کے حوالے سے تقریر میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان صرف دفاعی اخراجات نہیں کر رہا بلکہ دفاعی صنعت، تربیت، صلاحیت اور عالمی اعتماد کو معاشی مواقع میں بھی بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ناقدین کے نزدیک دفاعی اخراجات میں اضافہ ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے دستیاب گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔
قرضوں پر سود: بجٹ کا سب سے بڑا بوجھ
وفاقی بجٹ میں سب سے بڑا دباؤ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہے، جس کے لیے تقریباً 8.05 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ رقم اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی پر قرضوں کا بوجھ بدستور حاوی ہے۔ حکومت ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، ریلیف اور روزگار پر زیادہ خرچ کرنا چاہتی ہے، مگر قرضوں کا سود وفاقی وسائل کا بڑا حصہ لے جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آئندہ سال کا بجٹ ایک طرف معاشی استحکام کا دعویٰ کرتا ہے، مگر دوسری طرف مالیاتی جگہ نہ ہونے کے باعث عوامی توقعات کے مطابق بڑے ریلیف پیکجز نہیں دے سکا۔ بجٹ کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ حکومت قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے آمدنی بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور معیشت کو دستاویزی بنانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔
ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی: محدود وسائل میں ترجیحات کا انتخاب
وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی کے لیے 1 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر سرکاری اداروں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو بھی شامل کیا جائے تو ترقیاتی حجم 1.451 کھرب روپے تک پہنچتا ہے۔ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2.224 کھرب روپے کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری کے لیے بھی رقم رکھی گئی ہے۔
ترقیاتی بجٹ کی سمت بتاتی ہے کہ وفاقی حکومت نے ہائی ویز، ریلوے، بندرگاہوں، توانائی، اسٹریٹجک منصوبوں، خصوصی اقتصادی زونز، ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ اور سماجی پروگراموں کو ترجیح دی ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد سماجی شعبوں کی بڑی ذمہ داری صوبوں پر ہے، اس لیے وفاق نے اپنے ترقیاتی بجٹ کو نسبتاً بڑے قومی اور اسٹریٹجک منصوبوں پر مرکوز رکھا ہے۔
صوبوں کا حصہ اور وفاقی تعاون
بجٹ تقریر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعاون کو خاص اہمیت دی گئی۔ حکومت نے کہا کہ صوبوں کے آئینی حقوق متاثر کیے بغیر قومی ضروریات کے لیے ایک ایسا طریقہ کار طے کیا گیا ہے جس سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مالیاتی ہم آہنگی بہتر ہو گی۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وفاقی حکومت کے مطابق قومی اسٹریٹجک ضروریات کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت سے ایک میکانزم بنایا گیا ہے، جسے آئندہ مالی سال میں نافذ کیا جائے گا اور بعد کے برسوں میں بھی صوبوں کی مشاورت سے آگے بڑھایا جا سکے گا۔ اس معاملے پر سیاسی بحث بھی متوقع ہے کیونکہ صوبے اپنے ترقیاتی وسائل، پانی، امن و امان، صحت، تعلیم اور بلدیاتی ضروریات کے لیے زیادہ مالی گنجائش چاہتے ہیں۔
سرکاری ملازمین، پنشنرز اور کم از کم اجرت
بجٹ میں وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ محدود مالی گنجائش کے باوجود ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم مہنگائی، بجلی و گیس بلوں، ٹرانسپورٹ، کرایوں، خوراک، تعلیم اور صحت کے اخراجات کے تناظر میں یہ اضافہ عام ملازم کے لیے کتنا مؤثر ثابت ہو گا، اس پر بحث جاری رہے گی۔ اگر افراطِ زر 8.2 فیصد کے قریب رہتا ہے تو 7 فیصد اضافہ قوتِ خرید کو مکمل طور پر بحال نہیں کرے گا، البتہ کم آمدن طبقے کے لیے یہ جزوی سہارا ضرور بن سکتا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف
بجٹ 2026-27 کا ایک نمایاں پہلو تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں ریلیف ہے۔ سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدنی پر ٹیکس نہ لگانے کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے۔ درمیانی آمدنی والے سلیبز میں ٹیکس شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن پر شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن پر 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن پر 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن پر 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر اس طبقے کے لیے اہم ہے جو پہلے ہی مکمل طور پر دستاویزی ہے اور جس کی آمدن پر ٹیکس براہِ راست کٹتا ہے۔ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ طویل عرصے سے یہ شکایت کرتا رہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر بوجھ بڑھایا جاتا ہے جبکہ غیر دستاویزی شعبے کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا۔
کاروبار، کارپوریٹ سیکٹر اور سپر ٹیکس
کاروباری طبقے کے لیے بجٹ میں چند اہم اعلانات کیے گئے ہیں۔ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری، کارپوریٹ منافع، روزگار اور کاروباری اعتماد میں بہتری آئے گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے، 11 آئی پی اوز، کاروباری رجسٹریشنز اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں سرگرمی کو بھی حکومت نے بہتر کاروباری اعتماد کی علامت قرار دیا۔ تاہم نجی شعبہ ابھی بھی بلند پیداواری لاگت، توانائی قیمتوں، ٹیکس پالیسی کے عدم تسلسل، ریفنڈز، ریگولیٹری دباؤ اور غیر دستاویزی معیشت کے مقابلے جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام
حکومت نے چھوٹے تاجروں کے لیے ایک آسان فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس نظام کے تحت ریٹیلرز کو سالانہ سیلز پر 1 فیصد ٹیکس یا کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنے کا آپشن دیا جائے گا۔ compliant تاجروں کو “گرین سلیٹ” دینے کی بات کی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس حکام غیر ضروری طور پر کاروباری مقامات میں داخل نہیں ہوں گے۔
یہ اقدام پاکستان کی غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ماضی میں تاجر دوست اسکیم جیسے تجربات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے، اس لیے اس بار حکومت کو تاجروں کا اعتماد جیتنے، نظام کو آسان رکھنے، ہراسانی روکنے اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کو سہل بنانے کی ضرورت ہو گی۔
برآمدات اور ایکسپورٹرز کے لیے اقدامات
بجٹ میں برآمدی شعبے کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایکسپورٹ ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
یہ اقدامات برآمدات کو مسابقتی بنانے کے لیے اہم ہیں، مگر اصل ضرورت توانائی کی کم قیمت، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، صنعتی خام مال تک آسان رسائی، مستحکم ایکسچینج ریٹ، بندرگاہی سہولتوں میں بہتری اور عالمی مارکیٹوں تک بہتر رسائی کی ہے۔ پاکستان اگر 4 فیصد گروتھ کو پائیدار بنانا چاہتا ہے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہو گا۔
ایف بی آر اصلاحات: مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اور فیس لیس سسٹم
ایف بی آر اصلاحات بجٹ 2026-27 کا اہم ستون ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، تھرڈ پارٹی ڈیٹا، پراپرٹی، گاڑیوں، بینکنگ معلومات اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کو استعمال کیا جائے گا۔ نیشنل فیس لیس سینٹر، فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ، پروڈکشن مانیٹرنگ، سیمنٹ اور شوگر سیکٹرز کی ڈیجیٹل نگرانی جیسے اقدامات کا مقصد انسانی مداخلت، رشوت، ہراسانی اور صوابدیدی اختیارات کو کم کرنا ہے۔
اگر یہ اصلاحات عملی طور پر شفاف رہیں تو پاکستان کا ٹیکس نظام زیادہ منصفانہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ڈیٹا کے غلط استعمال، بے جا نوٹسز، کمزور اپیل نظام یا تاجروں کی ہراسانی کا مسئلہ برقرار رہا تو اصلاحات کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
توانائی، بجلی سبسڈی اور گردشی قرضہ
توانائی کا شعبہ بجٹ کا ایک اور اہم باب ہے۔ حکومت نے بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے 1.091 کھرب روپے سبسڈی مختص کی ہے۔ پائیدار توانائی کے لیے 116.2 ارب روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جنوری 2027 سے براہِ راست سبسڈی نظام متعارف کرانے کی بات کی گئی ہے تاکہ بجلی سبسڈی زیادہ شفاف اور ہدفی ہو سکے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ توانائی کے گردشی قرضے میں نئے اضافے کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایل این جی معاہدوں پر قطر اور اٹلی کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے ذریعے 35 کارگوز کم کیے گئے جس سے 1.2 ارب ڈالر کی بچت کا دعویٰ کیا گیا۔ گیس کے شعبے میں 100 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس شامل ہونے اور 17 فیلڈز سے 108 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 16 ہزار بیرل تیل حاصل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تیل قیمتیں اور عالمی دباؤ
بجٹ تقریر میں عالمی تیل قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال کا خاص ذکر کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا پورا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا گیا اور 128 ارب روپے کے قریب ریلیف دیا گیا۔
یہ نکتہ عوامی سطح پر اہم ہے، مگر پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ عالمی تیل قیمتوں میں اچانک اضافہ درآمدی بل، روپے کی قدر، مہنگائی، بجلی کی قیمت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ بجٹ کے اہداف کا بڑا انحصار اس بات پر ہو گا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتیں کس حد تک مستحکم رہتی ہیں۔
انفراسٹرکچر، شاہراہیں، ریلوے اور بندرگاہیں
بجٹ میں شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہائی ویز کے لیے 157.5 ارب روپے، این 25 کو دو رویہ کرنے کے لیے 100 ارب روپے اور ایم 6 سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے کی تخصیص کا ذکر کیا گیا ہے۔ کراچی روہڑی ایم ایل ون ریلوے سیکشن کے آغاز کو بھی اہم منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ منصوبے صرف سفری سہولت نہیں بلکہ تجارت، لاجسٹکس، برآمدات، زرعی پیداوار کی نقل و حمل، بندرگاہی رسائی اور علاقائی رابطے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کا اصل مسئلہ بروقت تکمیل، لاگت میں اضافہ، شفافیت اور پراجیکٹ مینجمنٹ ہے۔
ہاؤسنگ اور عام آدمی کا گھر
بجٹ میں وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے اور کم لاگت ہاؤسنگ پروگرامز کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مکان عام شہری کے لیے صرف چھت نہیں بلکہ معاشی تحفظ، تعمیراتی صنعت، روزگار، سیمنٹ، اسٹیل، مزدوری، بینکنگ اور شہری ترقی سے جڑا ہوا شعبہ ہے۔
تاہم ہاؤسنگ سیکٹر کو کامیاب بنانے کے لیے کم مارک اپ قرض، شفاف اہلیت، آسان اقساط، قانونی زمین، ماسٹر پلاننگ، بنیادی سہولتیں، فراڈ سے بچاؤ اور تعمیراتی لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ اسکیم صرف اعلانات تک محدود نہ رہی تو کم آمدن خاندانوں کے لیے اہم ریلیف بن سکتی ہے۔
سماجی تحفظ: بے نظیر کفالت اور تعلیمی وظائف
سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر کفالت پروگرام کو 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بے نظیر تعلیمی وظائف کے ذریعے 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات غریب اور کمزور طبقے کو مہنگائی، خوراک، تعلیم اور بنیادی ضروریات کے دباؤ سے بچانے کے لیے اہم ہیں۔
پاکستان میں غربت، بے روزگاری، خوراک کی قیمتوں، بچوں کے اسکول چھوڑنے اور خواتین کی معاشی مشکلات کے تناظر میں سماجی تحفظ کے پروگرام صرف امداد نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کاری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم ان پروگراموں میں شفافیت، مستحق افراد کی درست شناخت، ڈیجیٹل ادائیگی اور سیاسی مداخلت سے پاک نظام ناگزیر ہے۔
تعلیم، ہنر اور نوجوان
بجٹ تقریر میں نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا گیا۔ پاکستان کی تقریباً 68 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، اس لیے ہنر، ٹیکنالوجی، روزگار، کاروبار اور تعلیمی مواقع کو بجٹ کی ترجیح بتایا گیا۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے تحت 5 لاکھ 15 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے اور 53 فیصد روزگار کی کامیابی کا ذکر کیا گیا۔
اعلیٰ تعلیم کے وظائف کے لیے 46 ارب روپے اور دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے کا اعلان بھی کیا گیا۔ یہ فیصلے تعلیم اور ہنر کے شعبے میں اہم ہیں، مگر پاکستان کو نوجوان آبادی سے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے صرف وظائف نہیں بلکہ صنعت سے منسلک تربیت، آئی ٹی اسکلز، فری لانسنگ، ٹیک ایکسپورٹ، زبان، ڈیجیٹل ٹولز اور کاروباری قرضوں کی عملی رسائی بڑھانا ہو گی۔
آئی ٹی اور ڈیجیٹل پاکستان
آئی ٹی شعبے کو بجٹ 2026-27 میں معاشی ترقی کا اہم انجن قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق آئی ٹی برآمدات 20 فیصد اضافے کے ساتھ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ پانچ شہروں میں فائیو جی سروسز کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل مرچنٹ انٹیگریشن 5 لاکھ سے بڑھ کر 16 لاکھ 70 ہزار تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا، جبکہ ترسیلاتِ زر کا 92 فیصد حصہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے موصول ہونے کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف پیش رفت قرار دیا گیا۔
اگر پاکستان آئی ٹی برآمدات، فری لانسنگ، کلاؤڈ سروسز، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو پالیسی تسلسل دے سکے تو یہ شعبہ روایتی برآمدات کے مقابلے میں تیزی سے زرمبادلہ لا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار، پالیسی استحکام، ٹیکس سادگی، بین الاقوامی ادائیگیوں کی آسانی اور نوجوانوں کی عالمی معیار کی تربیت بنیادی شرط ہے۔
زراعت، فوڈ سکیورٹی اور زرعی اسٹوریج
زراعت پاکستان کی معیشت، خوراک، دیہی روزگار اور برآمدات کا بنیادی ستون ہے۔ بجٹ میں زرعی اسٹوریج فنانسنگ، ویئر ہاؤسز، سائلوز، کولڈ اسٹوریج، زرعی قرضوں، کھاد کی دستیابی اور چھوٹے کسانوں کے لیے مالی سہولتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ زرعی اسٹوریج سہولتوں کا مقصد فصل کٹائی کے بعد ضائع ہونے والی پیداوار کو کم کرنا، کسان کو بہتر قیمت دلانا اور خوراک کی سپلائی کو مستحکم رکھنا ہے۔
پاکستان میں گندم، چاول، کپاس، پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت کی ویلیو چین کمزور ہے۔ اگر زرعی اسٹوریج، کولڈ چین، سستی فنانسنگ اور مارکیٹ تک رسائی بہتر ہو جائے تو کسان کی آمدنی بڑھ سکتی ہے اور شہری صارف کو بھی قیمتوں میں نسبتاً استحکام مل سکتا ہے۔
صنعت، خصوصی اقتصادی زونز اور پاکستان اسٹیل ملز زمین
بجٹ میں صنعتی ترقی کے لیے خصوصی اقتصادی زونز، آٹومیشن سینٹرز اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کا ذکر کیا گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کی 6,860 ایکڑ زمین کو خصوصی اقتصادی زون میں تبدیل کرنے کا اعلان سرمایہ کاری، صنعت، روزگار اور برآمدی پیداوار کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائن اور آٹومیشن سینٹرز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ برآمدی صنعت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ تاہم صنعتی شعبہ تبھی پائیدار ترقی کرے گا جب بجلی، گیس، ٹیکس، خام مال، ریفنڈز، بندرگاہی سہولتیں اور پالیسی استحکام بہتر ہوں گے۔
نجکاری: پی آئی اے کے بعد ڈسکوز، جینکوز اور ایئرپورٹس
حکومت نے نجکاری کو معاشی اصلاحات کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔ پی آئی اے کی شفاف نیلامی، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اور آئندہ مرحلے میں ڈسکوز، جینکوز اور ایئرپورٹس کی نجکاری کا ذکر کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبہ معیشت کو آگے لے جائے گا اور ریاست کا کردار پالیسی، ریگولیشن اور عوامی مفاد تک محدود ہونا چاہیے۔
نجکاری کے حامی اسے خسارے میں چلنے والے اداروں کا بوجھ کم کرنے کا راستہ سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین شفافیت، روزگار، اثاثوں کی قیمت، صارفین کے حقوق اور قومی مفاد کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو نجکاری کے ہر عمل کو کھلی نیلامی، مضبوط ریگولیشن اور عوامی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔
موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور پانی کا بحران
بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلابی نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا۔ حکومت نے سیلاب سے 822 ارب روپے کے نقصانات کو پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کی مثال قرار دیا۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عالمی اخراجات میں بڑا حصہ دار نہیں مگر موسمیاتی تباہیوں کا بھاری بوجھ اٹھاتا ہے۔ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، پانی کی کمی، فصلوں پر اثرات اور شہری انفراسٹرکچر پر دباؤ آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔
بجٹ میں موسمیاتی سرمایہ کاری، پانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زرعی تحفظ، شہری نکاسی آب اور گرین انرجی کو زیادہ مربوط انداز میں شامل کرنے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔ اگر پاکستان نے موسمیاتی خطرات کو بجٹ سازی کا مستقل حصہ نہ بنایا تو ہر چند سال بعد سیلاب، خشک سالی یا گرمی کی لہر ترقیاتی منصوبوں کو پیچھے دھکیل سکتی ہے۔
عوامی اثرات: ریلیف محدود، مگر سمت واضح
عام آدمی کے لیے اس بجٹ میں سب سے نمایاں ریلیف تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی، سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ، بجلی سبسڈی، سماجی تحفظ پروگرامز، ہاؤسنگ اسکیمز اور بعض ضروری اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی شکل میں ہے۔ مگر عوام کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ پیٹرول، بجلی، گیس، آٹا، دال، دودھ، ٹرانسپورٹ اور کرایوں پر مجموعی اثر کیا پڑتا ہے۔
اگر افراطِ زر 8.2 فیصد کے اندر رہتا ہے، روپے کی قدر مستحکم رہتی ہے، تیل قیمتیں قابو میں رہتی ہیں اور بجلی ٹیرف میں بڑا اضافہ نہیں ہوتا تو بجٹ کا ریلیف محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر عالمی تیل، درآمدی دباؤ یا روپے پر دباؤ بڑھا تو عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی ماحول اور پارلیمانی بحث
بجٹ اجلاس سیاسی طور پر بھی اہم رہا۔ اپوزیشن کے احتجاج، اتحادی جماعتوں کے تحفظات، صوبائی مطالبات، پانی کے مسائل اور قومی وسائل کی تقسیم پر بحث نے واضح کیا کہ بجٹ صرف معاشی دستاویز نہیں بلکہ سیاسی معاہدہ بھی ہوتا ہے۔ حکومت کو بجٹ پاس کرانے کے لیے اتحادیوں کو ساتھ رکھنا ہو گا، جبکہ اپوزیشن عوامی ریلیف، ٹیکس بوجھ، دفاعی اخراجات، آئی ایم ایف شرائط اور ترقیاتی کٹوتیوں پر سوال اٹھائے گی۔
حتمی تجزیہ: بجٹ 2026-27 موقع بھی ہے، امتحان بھی
وفاقی بجٹ 2026-27 بظاہر ایک محتاط، دفاعی اور اصلاحاتی بجٹ ہے۔ اس میں بڑے عوامی ریلیف کے بجائے محدود مگر ہدفی ریلیف دیا گیا ہے۔ حکومت نے معاشی استحکام، دفاعی صلاحیت، ایف بی آر اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت، برآمدات، توانائی اصلاحات، نجکاری، نوجوانوں، ہاؤسنگ اور سماجی تحفظ کو اپنی ترجیحات بنایا ہے۔
تاہم اصل کامیابی اعلانات میں نہیں بلکہ عملدرآمد میں ہو گی۔ ایف بی آر اصلاحات واقعی شفاف ہوئیں، تاجروں کو اعتماد ملا، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم ہوا، توانائی گردشی قرضہ قابو میں رہا، آئی ٹی برآمدات بڑھیں، ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوئے، صوبوں کے ساتھ مالیاتی ہم آہنگی برقرار رہی اور مہنگائی قابو میں رہی تو یہ بجٹ استحکام سے ترقی کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر تیل قیمتیں بڑھیں، ٹیکس اہداف پورے نہ ہوئے، بجلی و گیس نرخ بڑھے، ایف بی آر اصلاحات ہراسانی میں بدلیں، نجکاری متنازع ہوئی یا ترقیاتی اخراجات کٹوتیوں کا شکار ہوئے تو یہی بجٹ عوام کے لیے ایک اور مشکل مالی سال کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
فی الحال حکومت کا پیغام واضح ہے: پاکستان معاشی بحران سے نکل کر نظم، اصلاحات، دفاعی اعتماد اور محتاط ترقی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ راستہ کاغذی بجٹ سے نکل کر عوام کی زندگی، کاروبار کی رفتار اور قومی معیشت کی مضبوطی تک کیسے پہنچتا ہے۔



وفاقی بجٹ 2026-27، پاکستان بجٹ، محمد اورنگزیب، ایف بی آر، دفاعی بجٹ، تنخواہوں میں اضافہ، پنشن، پی ایس ڈی پی، ٹیکس ریلیف، معاشی اصلاحات، آئی ایم ایف، دوست نیوز
