پاکستان سے چین کو بھینسوں کے جینیاتی مواد کی برآمد
پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی معاہدہ
اسلام آباد: پاکستان نے اپنے لائیو سٹاک سیکٹر کے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جہاں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور چین کے رائل گروپ آف دی پیپلز ریپبلک آف چائنا کے درمیان بھینسوں کے اعلیٰ معیار کے جینیاتی مواد کی برآمد کے لیے ایک تاریخی میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ (MTA) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس معاہدے سے سالانہ 25 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ایک نئی مارکیٹ کا آغاز ہوگا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی قیادت میں اہم پیش رفت
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے اس معاہدے کو پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے اینمل ہسبنڈری کمشنر ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی کے ہمراہ چینی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل سفارتی، تکنیکی اور ریگولیٹری کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں لائیو سٹاک برآمدات کے لیے ایک نیا راستہ کھلا اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی بھینسوں کی جینیات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروایا گیا۔
پاکستان میں جدید ایمبریو، سیمین اور اووا پروڈکشن یونٹ کا قیام
معاہدے کے تحت، چین کے رائل گروپ نے پاکستان میں ایک جدید ترین ایمبریو، سیمین اور اووا پروڈکشن یونٹ قائم کیا ہے۔ اس یونٹ کے ذریعے بھینسوں کے جینیاتی مواد کی جمع آوری، پروسیسنگ اور پھر چین کو برآمد کی جائے گی۔ اس جینیاتی مواد میں ایمبریوز، سیمین اور سیکسڈ سیمین شامل ہوں گے۔ یہ قدم پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کو ایک اعلیٰ قدر کی برآمدی صنعت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔
نیلی راوی بھینسوں کی عالمی پہچان
وزیر رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دنیا کی بہترین بھینسوں کی نسلوں کا گھر ہے، بالخصوص نیلی راوی نسل جو اپنی بہترین دودھ کی پیداوار اور منفرد جینیاتی خصوصیات کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنی ایک خاص پہچان رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستانی بھینسوں کی جینیات کو ایک بین الاقوامی برانڈ کے طور پر پیش کرنے اور ملک بھر کے کسانوں، بریڈرز اور محققین کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
سالانہ 25 ملین ڈالر زرمبادلہ کمانے کی توقع
ابتدائی تخمینوں کے مطابق، چین فوری طور پر تقریباً 5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے بھینسوں کے ایمبریوز درآمد کرے گا۔ سالانہ بنیادوں پر، ایمبریوز، سیمین اور سیکسڈ سیمین کی مجموعی برآمدات سے تقریباً 25 ملین امریکی ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا فروغ ثابت ہوگا اور لائیو سٹاک سیکٹر کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیاں کھولے گا۔
جینیاتی وسائل کا تحفظ اور قومی مفادات
رانا تنویر حسین نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کو پاکستان کے قومی مفادات اور جینیاتی وسائل پر خودمختار حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے۔ میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ (MTA) ایک حفاظتی نظام کے طور پر کام کرے گا، جو جینیاتی وسائل تک منظم رسائی، منظم منتقلی اور کسی بھی غلط استعمال یا غیر مجاز استحصال سے تحفظ فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ ناگویا پروٹوکول برائے رسائی و فائدہ تقسیم، کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی، اور پاکستان کے متعلقہ قانونی فریم ورک کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔
اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت پاکستان کے دانشورانہ املاک کے حقوق اور ان قومی مفادات کا جامع تحفظ ہے جو اس کے قیمتی بھینسوں کے جینیاتی وسائل سے متعلق ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ان شقوں کے تحت پاکستان کی بھینسوں کی جینیات ایک محفوظ قومی اثاثہ رہیں گی، اور ان کے استعمال سے حاصل ہونے والے مستقبل کے تجارتی فوائد منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر پاکستان کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔
سرکاری معلومات کے لیے پاکستان پوسٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
