مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 418,865 PKR Bitcoin $80,811 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 418,865 PKR Bitcoin $80,811
تازہ ترین

آخر ہمارا قصور کیا ہے؟

📅 ✍️ ⏱ 6 منٹ
khalid
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

محمد خالد

کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں عام آدمی پیدا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ وہ صرف برداشت کرے… خاموش رہے… اور ہر نئے دن کے ساتھ مزید ٹوٹتا چلا جائے۔

وہ صبح اٹھتا ہے تو مہنگائی اس کا منہ چڑھا رہی ہوتی ہے۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائیں — سب اس کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ کام پر جاتا ہے تو اسے کم اجرت، زیادہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ واپس گھر آتا ہے تو بچوں کے سوال اس کا ضمیر چیر دیتے ہیں: “ابو! کل سکول کی فیس کہاں سے آئے گی؟”

یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں… یہ کروڑوں گھروں کی کہانی ہے۔

آخر یہ ملک، جس کے لیے ہم نے خواب دیکھے تھے، اس میں عام آدمی کی زندگی اتنی مشکل کیوں ہو گئی ہے؟

اصل سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں…

اصل سوال یہ ہے کہ مسائل ختم کیوں نہیں ہوتے؟

کیونکہ ہر آنے والا سال پچھلے سال سے زیادہ مہنگا، زیادہ مشکل اور زیادہ بے رحم ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی کے دعوے بڑھتے ہیں، لیکن عام آدمی کی پلیٹ چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار بہتر دکھائے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔

کبھی سوچا ہے کہ یہ بوجھ ہمیشہ ایک ہی طبقے پر کیوں پڑتا ہے؟

جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو رکشہ چلانے والا روتا ہے۔
جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو چھوٹا تاجر بند گلی میں آ جاتا ہے۔
جب ٹیکس بڑھتا ہے تو تنخواہ دار آدمی پس جاتا ہے۔

اور جب نقصان ہوتا ہے تو قربانی ہمیشہ وہ دیتا ہے جس کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہوتا۔

مافیا… ایک خاموش نظام

یہ صرف ایک لفظ نہیں رہا، یہ ایک پورا نظام بن چکا ہے۔

کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا، کبھی ادویات کا، کبھی پیٹرول کا۔ ہر بحران کے پیچھے ایک ہی سوال اٹھتا ہے: فائدہ کس کو ہوا؟

عوام صرف لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ ان لائنوں کے پیچھے اپنی دولت کے انبار لگاتے رہتے ہیں۔

یہ کیسا نظام ہے جہاں قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جاتا ہے؟

انصاف… ایک خواب بنتا جا رہا ہے

عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں، مگر انصاف تک رسائی عام آدمی کے لیے ایک طویل سفر بن چکی ہے۔ برسوں پرانے کیسز، فائلوں کے انبار، اور انتظار کی وہ تھکن جو انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔

جس ملک میں انصاف دیر سے ملے، وہاں انصاف نہ ملنے کے برابر ہوتا ہے۔

تقسیم کا زہر

ہمیں ایک اور جنگ میں الجھا دیا گیا ہے — زبان کی، فرقے کی، سیاست کی، علاقے کی۔

جب کہ اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔

بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
بے روزگاری کسی زبان کو نہیں دیکھتی۔
اور مہنگائی کسی سیاسی جماعت کو نہیں پہچانتی۔

مگر ہمیں ایک دوسرے سے لڑا کر اصل سوالوں سے دور رکھا جاتا ہے۔

نوجوان کہاں جائے؟

یہ ملک نوجوانوں سے بھرا ہوا ہے، مگر ان کے ہاتھ میں مواقع نہیں۔

ڈگریاں ہیں مگر نوکری نہیں۔
صلاحیت ہے مگر پلیٹ فارم نہیں۔
خواب ہیں مگر راستہ نہیں۔

اور پھر یہی نوجوان یا تو مایوسی میں ڈوب جاتا ہے یا ملک چھوڑنے کا سوچتا ہے۔

کسان، مزدور اور پسے ہوئے طبقات

کسان فصل اگاتا ہے مگر فائدہ کسی اور کو ہوتا ہے۔
مزدور اینٹیں اٹھاتا ہے مگر خود کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔
اور عام آدمی ساری زندگی صرف “زندہ رہنے” میں گزار دیتا ہے، جینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

کیا یہ سب ہمیشہ ایسے ہی رہے گا؟

یہ سوال اب صرف غصے کا نہیں رہا، یہ سوال بقا کا بن چکا ہے۔

کیا ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے؟
کیا ہر نسل یہی سوال پوچھتی رہے گی؟
کیا ہر دور میں امید صرف نعرہ بن کر رہ جائے گی؟

امید اب بھی باقی ہے

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قومیں تب بدلتی ہیں جب وہ خود سوال پوچھنا شروع کر دیتی ہیں۔ جب وہ خاموشی توڑ دیتی ہیں۔ جب وہ یہ مان لیتی ہیں کہ تبدیلی باہر سے نہیں آتی، اندر سے جنم لیتی ہے۔

یہ ملک کسی ایک طبقے کا نہیں، یہ سب کا ہے۔
اس کے وسائل پر چند ہاتھوں کا نہیں، پورے عوام کا حق ہے۔
اس کی عزت صرف ایوانوں میں نہیں، گلیوں میں بسنے والے ہر شخص کے چہرے پر ہونی چاہیے۔

آخر ہمارا قصور کیا ہے؟

یہ سوال اب صرف ایک جملہ نہیں رہا، یہ ایک اجتماعی چیخ ہے… ایک اجتماعی سوال ہے… اور شاید ایک اجتماعی بیداری کا آغاز بھی۔

کیونکہ جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، تب تک ہر نیا دن یہی کہانی دہراتا رہے گا۔

اور آج بھی پورا پاکستان ایک ہی سوال کر رہا ہے:

آخر ہمارا قصور کیا ہے؟

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
ٹیگز: #pakistan
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں